Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 6

  1. وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴿6﴾

    1. وَمِنَاور سے
    2. النَّاسِلوگ
    3. مَنْجو
    4. يَّشْتَرِيْخریدتا ہے
    5. لَهْوَ الْحَدِيْثِکھیل کی (بیہودہ) باتیں
    6. لِيُضِلَّتاکہ وہ گمراہ کرے
    7. عَنْسے
    8. سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کا راستہ
    9. بِغَيْرِ عِلْمٍ ڰبےسمجھے
    10. وَّيَتَّخِذَهَااور وہ اسے ٹھہراتے ہیں
    11. هُزُوًا ۭہنسی مذاق
    12. اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    13. لَهُمْان کے لیے
    14. عَذَابٌ مُّهِيْنٌذلت والا عذاب
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو فضولیات کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے گمراہ کریں بغیر کسی علم کے۔ اور ان آیات کا مذاق اڑائیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن الناس من یشتری لھوا لحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ویتخذھا ھزوا اولئک لھم عذاب مھین۔ (6) ’ اشترو ‘ کے معنی، جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، ترجیح دینے کے بھی آتے ہیں۔ لھو الحدیث ‘ اسی طرح کی ترکیب ہیجس طرح دوسرے مقام میں ’ زخرف القولہ ‘ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ یہاں یہ لفظ کتاب حکیم کی آیات کے مقابل میں استعمال ہوا ہے۔ اس وجہ سے اس سے مراد وہ گمراہ کن باتیں ہیں جو وقت کے مفسدین لوگوں کو آیات الٰہی سے برگشتہ کرنے کے لئے پھیلاتے تھے۔ قرآن لوگوں کو زندگی کے اصل حقائق کے سامنے کھڑا کرنا چاہتا تھا لیکن مخالفین کی کوشش یہ تھی کہ لوگ انہی مزخرفات میں پھنسے رہیں جن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہاں اسی صورت حال کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور اسلوبِ بیان اظہار تعجب کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تو لوگوں کی ہدایت کے لئے ایک پر حکمت کتاب اتاری ہے لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان میں بہتریے اس کے مقابل میں انہی فضول باتوں کو ترجیح دیتے ہیں جو ان کی خواہشوں اور بدعتوں کے لئے سند تصدیق فراہم کرتی ہیں۔ ’ لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ویتخذھا ھزوا۔ ’ علم ‘ سے مراد دلیل وبرہان ہے۔ آگے آیت 30 میں بھی یہ لفظ آرہا ہے۔ وہاں اس کی مزید وضاحت ہوجائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ مفسدین کی یہ تمام سععی نامراد اس لئے ہے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں حالانکہ اللہ کی راہ چھوڑ کر جس راہ پر وہ چل رہے ہیں اور جس پر لوگوں کو بھی چلانا چاہتے ہیں اس کے حق میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جسارت کا یہ عالم ہے کہ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے اور اپنی بےسروپات باتوں کی تائید میں آسمان و زمین کے قلابے ملاتے ہیں۔ ’ اولئک لھم عذاب مھین۔ ‘ اوپر اہل ایمان کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہی لوگ ہدایت پر ہیں اور وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے ؟ اس کے مقابل میں یہ ان لوگوں کو انجام بیان فرمایا جو قرآن کی آیات حکمت کے مقابل میں اپنی خرافات بدعت و ضلالت کو پھیلانے میں سرگرم تھے۔ فرمایا کہ ان کے لئے ایک نہایت سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔ ’ ذلیل کرنے والا عذاب ‘ اس وجہ سے ہوگا کہ حق کے مقابل میں اپنی بات کی پچ استکبار ہے اور استکبار کی سزا اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلت و رسوائی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوط رہے کہ عذاب اور عذاب میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یوں تو ہر عذاب عذاب ہے، اللہ تعالیٰ اس سے امان میں رکھے، لیکن سب سے زیادہ سخت وہ عذاب ہے جو رسوا کردینے والا ہو۔