تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 7
الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ﴿7﴾
- الَّذِيْٓوہ جس نے
- اَحْسَنَبہت خوب بنائی
- كُلَّ شَيْءٍہر شے
- خَلَقَهٗجو اس نے پیدا کی
- وَبَدَاَاور ابتدا کی
- خَلْقَپیدائش
- الْاِنْسَانِانسان
- مِنْسے
- طِيْنٍمٹی
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس نے جو چیز بھی بنائی ہے خوب ہی بنائی ہے ! اس نے انسان کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
الذی احسن کل شئی خلقہ وبداء خلق الانسان من طین الم جعل نسلہ من سللۃ منماء مھین ثم سومہ و نفخ فیہ من روحہ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون۔ (7۔ 9)
اللہ تعالیٰ کی صفات عالم الغیب والشہادۃ اور عزیز و رحیم کو بنیاد قرار دے کر آگے قیامت کے انداز کے لئے تمہید استوار فرمائی کہ یہ اللہ ہیی ہے جس نے جو چیز بھی بنائی۔ یعنی اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اس کے بےنہایت علم کی شاہد ہے۔ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی لے کر انسان اگر اس پر غور کرے تو اس کی عقل صانع کی صنعت و کاریگری پر دن رہ جاتی ہے اور وہ بےخود ہو کر پکاراٹھتا ہے کہ تبارک اللہ احسن الخالقین (بڑی ہی بابرکت ذات ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا ! !) یہیں سے انسان پر اس حقیقت کا دروازہ کھلتا ہے کہ جو ذات اتنی قدرت رکھنا والی، اتنی حکیم، اتنی باریک بیں اور ایسی رحمان و رحیم ہے اس کی نسبت یہ کس طرح باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اتنا بڑا عالم بالکل بےمقصد کھڑا کردے۔ پس ضرور ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن آئے جس میں وہ حق و باطل میں امتیاز کرے۔ ان لوگوں کو جزا دے جنہوں نے اس کی نعمتوں کا حق پہنچانا اور ان لوگوں کو سزا دے جنہوں نے اس دنیا میں اندھوں بہروں کی زندگی گزاری، نہ انہوں نے خود اس کی حکمتوں پر غور کیا اور نہ دوسرے غور کرنے والوں کی باتوں کو لائق اعتناء سمجھا۔
’ بد اخلق الانسان من طین ‘۔ اوپر والے ٹکڑے میں یہ بات جو فرمائی ہے کہ اس نے جو چیز بھی بنائی خوب بنائی، اس کے ثبوت میں خارج کی مثالیں پیش کرنے کے بجائے خود انسان ہی کی خلقت کو بطور مثال پیش کیا ہے کہ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ خود اپنی ہی خلقت کے مراحل و مدارج پر غور کرو اور دیکھو کہ خدا کی قدرت و حکمت اور اس کی ربوبیت کی یا کیا شانیں تمہارے اندر ظاہر ہوئی ہیں ! فرمایا کہ یہ انسان جو آج اپنی قابلیتوں پر اتنا نازاں ہے، اس کا آغاز خدائے حکیم و قدیر نے کسی بڑے قیمتی جوہر سے نہیں کیا بلکہ مٹی سے کیا، اسی سے اس کا قالب بنا اور اسی مٹی کے اندر سے اس کے اندر زندگی کی حرکت نمودار ہوئی لیکن دیکھو خالق کی قدرت و حکمت کہ اس نے مٹی کے لوندے کو کیا سے کیا بنادیا ! !
’ ثم جعل نسلہمن سللۃ من مفا مھین۔ یہ انسان کی خلقت کے دوسرے مرحلہ کی طرف اشارہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں اس کی حیثیت یہ ہوئی کہ مٹی کے بجائے اس کی نسل کے چلنے کا ذریعہ حقیر و ناپاک پانی کا خلاصہ بنا۔
ثم سوہ ونفخ فیہ من زوجہ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ۔ ’ تسویۃ ‘ کے معنی جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں، کسی چیز کو سنوارنے اور اس کی نوک پلک درست کرنے کے ہیں۔ آرٹ کی اصطلاح میں جس چیز کو تکمیلی یا اتمامی عمل (Finishing Touch) کہتے ہیں ٹھیک وہی مفہوم تسویۃ کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تیسرے مرحلے میں آکر اس نے مٹی سے بنے ہوئے اس انسان کے نوک پلک سنوارے اور اس کے اندر اپنی روح پھونکی تب اس کے اندر سمع و بصرا اور دل کی وہ صلاحیتیں نمودار ہوئیں جو دوسری حیوانی مخلوقات کے مقابل میں اس کے لئے وجہ امتیاز بنیں۔
’ نفخ فیہ من رومہ ‘ میں روح سے مراد وہ روح ہے جس کو ہم روح ملکوتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ انسان کے اندر حیوانی روح کے ساتھ ایک نوریز دانی (Diyine Spark) بھی ہے اور اسی نور کے فیض سے انسان کے سمع و بصر اور فواد میں وہ روشنی پیدا ہوئی ہے جس سے اس کو اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ اگر اس روشنی سے وہ محروم ہوجائے تو پھر اس کا باطن بھی اسی طرح تیرہ و تار ہے جس طرح حیوانات کا ہے۔ کان، آنکھ اور دل حیوانات کے پاس بھی ہیں لیکن وہ نور یزدانی سے محروم ہیں اس وجہ سے ان کے کانوں، آنکھوں اور دلوں میں وہ صلاحیت نہیں ہے جو انسان کے سمع و بصر اور دل میں ہے۔ اگر انسان اپنے کو اس نور سے محروم کرلے تو پھر وہ بھی ایک حیوان ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس نور کی باقی رکھنا اور اس کو بڑھانا یا گھٹانا انسان کے اپنے اختیار پر منحصر ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس نور کو باقی رکھنا اور اس کو بڑھانا یا گھٹانا انسان کے اپنے اختیار پر منحصر ہے۔ جو لوگ اس کی قدر کرتے اور اس کے حقوق ادا کرتے ہیں وہ اس میں اضافہ کرتے ہیں اور ان کے اندر یہ قوی سے قوی تر ہوتا جاتا ہے اور جو لوگ اس کی قدر نہیں کرتے ان کے اندر یہ ضعیف ہوتے ہوتے بالکل ہی بجھ جاتا ہے۔
’ من روحہ ‘ میں اضافت سے مقصود فی الجملہ اس روح کے اختصاص کا اطہار ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فیوض و برکات میں سے ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حصہ ہے۔ اسی غلط فہمی پر تنبیہ اس لئے ہم نے ضروری سمجھی ہے کہ وحدت الوجود کی گمراہیوں میں بڑا دخلی اسی غلط فہمی کا ہے۔
اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تسویہ اور نفخ روح سے پہلے انسان پر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جب انسان حیوانات کی طرح ناتراشیدہ اور بصیرت و ادارک سے محروم تھا۔ اس دور کے بعد تسویہ نے اس کے ظاہر کو سنوارا اور نفخ روح نے اس کے باطن کو منور کیا۔
’ قلیلا ما تشکرون۔ ‘ یعنی اپنی خلقت کے ان تمام مراحل پر غور کرو کہ کس طرح خدا نے تمہارا آغاز کیا اور پھر کس درجے تک تم کو پہنچایا ! حق تھا کہ تمہارا بال بال اپنے رب کی اس عنایت و ربوبیت کا شکر گزار ہوتا اور جو نعمتیں و صلاحیتیں اس نے تم کو بخشیں ان کو تم اس کی رضا کے کاموں میں استعمال کرتے لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم بہت ہی کم اس کے شکر گزار ہوتے ہو۔