تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 33. Al-Ahzaab · Ayah 23
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ﴿23﴾
- مِنَسے (میں)
- الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
- رِجَالٌایسے آدمی
- صَدَقُوْاانہوں نے یہ سچ کر دکھایا
- مَا عَاهَدُواجو انہوں نے عہد کیا
- اللّٰهَاللہ
- عَلَيْهِ ۚاس پر
- فَمِنْهُمْسو ان میں سے
- مَّنْجو
- قَضٰىپورا کرچکا
- نَحْبَهٗنذر اپنی
- وَمِنْهُمْاور ان میں سے
- مَّنْجو
- يَّنْتَظِرُ ڮانتظار میں ہے
- وَمَا بَدَّلُوْااور انہوں نے تبدیلی نہیں کی
- تَبْدِيْلًاکچھ بھی تبدیلی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اہل ایمان میں وہ جانباز بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کر دکھایا۔ سوا ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کرچکے اور بعض منتظر ہیں۔ اور انہوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
من المومنین رجال صدقوا ما عھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظر وما بدلوا تبدیلا (23)
سورة اعراب کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ لفظ رجال جب اس طرح استعمال ہوتا ہے تو وہ تضخیم شان پر دلیل ہوتا ہے، اس وجہ سے اگر اس کا ترجمہ مردانِ حق یا مردانِ کار، کیا جائے تو یہ ترجمہ لفظ کی روح کے مطابق ہوگا۔
لفظ نحب وسیع معنوں میں آتا ہے۔ عزم و ہمت، عہد و پیمان، نذر، سب اس کے مفہوم میں داخل ہے۔ امام بخاری ؒ نے اس کی تفسیر ’ عھد ‘ سے کی ہے اور یہ تفسیر لفظ کی روح اور موقع و محل کی مقتضیات کے بالکل مطابق ہے۔
اوپر آیت 15 میں منافقین کا حال بیان ہوچکا ہے کہ انہوں نے اللہ اور رسول سے یہ عہد کیا تھا کہ اب کسی جنگ کا موقع آیا تو وہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے لیکن جب موقع آیا تو محاذ سے فرار کے بہاے ڈھونڈنے لگے۔ یہ ان کے مقابل میں اللہ کے وفادار بندوں کا ذکر ہے کہ مسلمانوں کے اندر وہ مردانِ حق بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے باندھے ہوئے عہد کو اس کی راہ میں جانیں دے کر پورا کر دکھایا اور جو ابھی یہ عہد پورا نہیں کرسکے ہیں وہ سر ہتھیلی پر لیے کھڑے ہیں کہ کب موقع آئے کہ وہ اس فرض سے سبکدوش ہوں۔ ”وما بدلوا تبدیلا اور انہوں نے اللہ سے باندھے ہوئے عہد میں سرِ مو تبدیل نہیں کی۔