Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 33. Al-Ahzaab · Ayah 58

  1. وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ع﴿58﴾

    1. وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
    2. يُؤْذُوْنَایذا دیتے ہیں
    3. الْمُؤْمِنِيْنَمومن مرد (جمع)
    4. وَالْمُؤْمِنٰتِاور مومن عورتیں
    5. بِغَيْرِبغیر
    6. مَا اكْتَسَبُوْاکہ انہوں نے کمایا (کیا)
    7. فَقَدِ احْتَمَلُوْاالبتہ انہوں نے اٹھایا
    8. بُهْتَانًابہتان
    9. وَّاِثْمًااور گناہ
    10. مُّبِيْنًاصریح
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو لوگ مومنین اور مومنات کو ان چیزوں کے باب میں ایذا دیتے ہیں جن کا انہوں نے ارتکاب نہیں کیا، انہوں نے اپنے سر صریح بہتان اور گناہ کا بار لیا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
والذین یوذون المومنین والمومنت بغیر اکتسبوا فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا (58) اوپر کی آیات میں منافقین کا وہ رویہ زیر بحث آیا ہے جو انہوں نے خاص نبی ﷺ کے ساتھ اختیار کر رکھا تھا۔ اب یہ عام مومنین و مومنات کو متہم کرنے کے لئے جو شرارتیں کر رہے تھے، وہ ان کی طرف اشارہ ہے۔ سورة نور کی تفسیر میں ہم تفصیل سے بیان کرچکے ہیں کہ ان منافقین کے دلوں پر ہی بات شاق تھی کہ مسلمانوں کو دوسرے تمام گروہوں کے مقابل میں غیر معمولی اخلاقی برتری حاصل ہے جو ان کی دعوت کو مقبولیت میں بڑے اہم عامل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے حسد کے جنون میں اس کا توڑ یہ نکالا کہ مسلمان مردوں اور عورتوں کے خلاف بےسروپا الزامات تراشیں اور لوگوں میں ان کو پھیلائیں تاکہ مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ مجروں اور ان کا کلیجہ ٹھنڈا ہو۔ واقعہ افک کی تفصیلات سورة نور کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہیں۔ وہ فتنہ بھی اسی مقصد سے اٹھایا گیا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی اسی سعی نامراد کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو لوگ مسلمان مردوں اور عورتوں کو جھوٹے الزامات میں ملوث کر رہے ہیں وہ صریح بہتان اور کھلے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی اس روش سے اگر یہ باز نہ آئے تو اس کا انجام دیکھیں گے !