Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 35. Faatir · Ayah 33

  1. جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ﴿33﴾

    1. جَنّٰتُ عَدْنٍباغات ہمیشگی کے
    2. يَّدْخُلُوْنَهَاوہ ان میں داخل ہوں گے
    3. يُحَلَّوْنَوہ زیور پہنائے جائیں گے
    4. فِيْهَاان میں
    5. مِنْسے ۔ کا
    6. اَسَاوِرَکنگن (جمع)
    7. مِنْسے
    8. ذَهَبٍسونا
    9. وَّلُؤْلُؤًا ۚاور موتی
    10. وَلِبَاسُهُمْاور ان کا لباس
    11. فِيْهَااس میں
    12. حَرِيْرٌریشم
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کے لئے ہمیشگی کے باغ ہوں گے جن میں وہ داخل ہوں گے، ان میں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور اس میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 33 یہ آخرت میں ان جانبازوں کا صلہ بیان ہوا ہے کہ ان کے لئے اقامت کے باغ ہوں گے جن میں وہ داخل ہوں گے۔ یعنی ان باغوں میں ان کا داخل ہونا محض وقتی سیر و تفریح کے لئے نہیں ہوگا بلکہ ہمیشہ کے لئے ہوگا۔ ’ یعلون ‘ مجہول کا صیغہ تشریف و تکریم پر دلیل ہے۔ سونے کے کنگن، موتی اور ریشم وغیرہ کا ذکر تقریب ِ فہم کے لئے ہے کہ جنت کی نعمتوں کا مخاطب کچھ تصور کرسکے۔ ان چیزوں کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ ان کا صحیح اندازہ اسی وقت ہوگا جب یہ آخرت میں سامنے آئیں گی۔ پہلے زمانہ میں سلاطین سونے کے کنگن اور موتی پہنتے تھے، اس وجہ سے جنت کے لباس کا تصور دینے کے لئے یہ تعبیر اختیار کی گئی ہے۔