Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 36. Yaseen · Ayah 18

  1. قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿18﴾

    1. قَالُوْٓاوہ کہنے لگے
    2. اِنَّا تَطَيَّرْنَاہم نے منحوس پایا
    3. بِكُمْ ۚتمہیں
    4. لَئِنْاگر
    5. لَّمْ تَنْتَهُوْاتم باز نہ آئے
    6. لَنَرْجُمَنَّكُمْضرور ہم سنگسار کردیں گے تمہیں
    7. وَلَيَمَسَّنَّكُمْاور ضرور پہنچے گا تمہیں
    8. مِّنَّاہم سے
    9. عَذَابٌعذاب
    10. اَلِيْمٌدردناک
Translation · Tadabbur-e-Quran
لوگوں نے کہا، ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں، اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تم کو سنگسار کر چھوڑٰن گے اور تم کو ہمارے ہاتھوں بڑا دکھ پہنچے گا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قالوا انا تضیرنا بکم لئن لم تنھوا لنرجمنکم ولیمسنکم منا عذاب لیم (18) لفظ ’ تطیر ‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں یہ بری فال لینے اور کسی کو منحوس سمجھے کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ان رسولوں کی دعوت کے زمانے میں اہل مصر پر جو آفتیں، ان کی تنبیہ کے لئے نازل ہوئیں ان سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے انہوں نے ان کو حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیا اور کہا کہ یہ آفتیں ہمارے اعمال کے سبب سے ہم پر نہیں آرہی ہیں، جیسا کہ موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھ دعویٰ کر رہے ہیں، بلکہ یہ ان کی اس گمراہ کن دعوت کے نتیجہ میں پیش آہی ہیں جس سے ہمارے دیوتا ناراض ہیں۔ ساتھ ہی ان کو دھمکی دی کہ اگر تم لوگ اس بدعقیدگی کی اشاعت سے باز نہ آئے تو ہم اپنے دیوتائوں کی حرمت کی حفاظت کے لے تم کو سنگسار کردیں گے اور اس کے علاوہ بھی بہت سے دکھ تم کو ہمارے ہاتھوں جھیلنے پڑیں گے۔ یہ مضمون سورة اعراف میں بھی گزر چکا ہے۔ فرمایا ہے۔ ’ ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین و نفص من الثمرات لعلھم یذکرون فازا اجاھ تھم الحسنہ قالوا الناھذہ وان تصبھم سیئۃ یطیر وابموسیٰ ومن معہ (130۔ 131) (اور ہم نے قوم فرعون کو قحط اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کیا کہ وہ نصیحت حاصل کریں تو جب ان کے حالات اچھے ہوتے، کہتے کہ یہ تو ہمارا حق ہی ہے اور اگر ان کو کوئی آفت پہنچتی تو اس کو موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے)۔