Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 36. Yaseen · Ayah 22

  1. وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿22﴾

    1. وَمَااور کیا ہوا
    2. لِيَمجھے
    3. لَآ اَعْبُدُمیں نہ عبادت کروں
    4. الَّذِيْوہ جس نے
    5. فَطَرَنِيْپیدا کیا مجھے
    6. وَاِلَيْهِاور اسی کی طرف
    7. تُرْجَعُوْنَتم لوٹ کر جاؤ گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور میں کیوں نہ بندگی کروں اس ذات کی جس نے مجھ کو پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جائو گے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 22۔ 25 اندازِ کلام دلیل ہے کہ یہ بات انہوں نے قوم کے لیڈروں کی ملامت کے جواب میں فرمائی ہے۔ جب انہوں نے کھلم کھلا لوگوں کو رسولوں کی پیروی کی دعوت دی ہوگی تو ظاہر ہے کہ مفاد پرست لیڈروں نے ان کو قوم اور دین آبائی کا دشمن ٹھہرایا ہوگا۔ ان کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ آخر اس کی بندگی میں کیوں نہ کروں جس نے مجھے وجود بخشا اور جس کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے۔ ’ والیہ ترجعون ‘ میں خطاب کا صیغہ تنبیہ کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج جس رب کی بندگی سے تم لوگ اس شدو مد کے ساتھ مجھے روک رہے ہو، ایک دن پیشی سب کی اسی کے حضور میں ہونی ہے اور تمہیں اس کے آگے جواب دہی کرنی ہے۔ ء اتخذمن دونہ الھۃ الایۃ ‘۔ یعنی یہ کس طرح ممکن ہے کہ میں تمہارے کہنے سے ایسی چیزوں کو معبود بنائوں جن کی بےبسی کا یہ حال ہے کہ اگر خدا مجھے کوئی دکھ پہنچانا چاہے تو نہ ان کی سفارش میرے لئے کچھ نافع ہوسکتی ہے اور نہ وہ بذات خود ہی یہ حیثیت رکھتے کہ مجھے اس دکھ سے نجات دے سکیں ! ’ انی اذا لفی ضلل مبین ‘ یعنی اگر میں ایسا کردوں تو یہ ایسی کھیل ہوئی گمراہی ہوگی جس کے لئے میرے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔ ’ انی امنت بربکم فاسمعون ‘۔ یہ قوم کو فیصلہ کن اور دندان شکن جواب ہے کہ تم لوگ اچھی طرح کان کھول کر میری یہ بات سن لو کہ یہ تمہارے رب پر ایمان لایا۔ مطلب یہ ہے کہ اب مجھے اس راہ سے ہٹانے کی کوشش میں اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ تم خود بھی یہی راہ اختیار کرو جو میں نے اختیار کی ہے اور اسی رب پر ایمان لائو جس پر میں ایمان لایا یوں اس لئے کہ فی الحقیقت وہی تمہارا بھی رب ہے۔ اگر تم اس سے مجھے برگشتہ کرنے کی کوشش کروں گے تو اپنے رہے ہی برگشتہ کرنے کی کوشش کروگے۔