Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 36. Yaseen · Ayah 52

  1. قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ﴿52﴾

    1. قَالُوْاوہ کہیں گے
    2. يٰوَيْلَنَااے وائے ہم پر
    3. مَنْۢ بَعَثَنَاکس نے اٹھا دیا ہمیں
    4. مِنْسے
    5. مَّرْقَدِنَا ۆہماری قبریں
    6. ھٰذَایہ
    7. مَا وَعَدَجو وعدہ کیا
    8. الرَّحْمٰنُرحمن۔ اللہ
    9. وَصَدَقَاور سچ کہا تھا
    10. الْمُرْسَلُوْنَرسولوں
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ کہیں گے، ہائے ہماری بدبختی ! ہم کو ہماری قبر سے کس نے اٹھا کھڑا کیا ! یہ تو وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں کی بات سچی نکلی !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 52 یعنی یہ مذاق اڑانے والے لوگ اس وقت گبھراہٹ اور سراسیمگی میں اپنے سر پیٹیں گے اور کہیں گے کہ یہ کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا کھڑا کیا ! یہ سوال تحقیق کے لئے نہیں بلکہ اپنی بدبختی کے اظہار کے لئے وہ کریں گے کہ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ مرنے کے بعد اٹھنا نہیں ہوگا لیکن یہ تو واقعہ ثابت ہوا ! ’ ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون۔ ‘ یہ ان کے قول کا حصہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تو وہی بات ہوئی جس کی خدائے رحمان کی طررف سے ہم کو آگاہی دی گئی تھی، رسولوں کی بات بالکل سچی نکلی۔ اور اس کا بھی امکان ہے کہ یہ بات فرشتوں کی زبانی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وقت ان کی تذلیل کے لئے فرمائی جائے کہ اب اپنی بدبختی پر سو پٹیو، یہ وہی چیز تمہارے سامنے آئی ہے جس سے خدائے رحمان نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تم کو آگاہ کردیا تھا لیکن تم نے ان کی کوئی پروا نہیں کی۔ میرا رحجان اس دوسری بات کی طرف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے نظائر سے واضح تائید اسی کی نکلتی ہے۔ سورة صافات میں ہے۔ فانما ھی زجرۃ واحدۃ فاذا ھم ینظرون وقالوا یولینا ھذا یوم الدین ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبوان (15۔ 21) بس وہ ایک ڈانٹ ہی ہوگی کہ دفعتہ وہ اٹھ کے کا گنے لگیں گے اور کہیں گے۔ ہائے ہماری بدبختی ! یہ تو جزاء و سزا کا دن آگیا۔ یہی وہی فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے۔ اس میں آخری فقرہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو بالکل بروقت ان کی تفضیح کے لئے کہلایا جائے گا۔