تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 119
وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ﴿119﴾
- وَتَرَكْنَااور ہم نے باقی رکھا
- عَلَيْهِمَاان دونوں پر (ان کا ذکر خیر)
- فِي الْاٰخِرِيْنَبعد میں آنے والوں میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے ان کے طریقہ پر پیچھے والوں میں ایک گروہ کو چھوڑا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وترکنا علیھما فی الاخرین سلم علی موسیٰ وھرون انا کذلک نجزی المحسنین و انھما عن عبادنا المومنین (122-119)
یہ اسیمضمون کی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکا ہے اور جس کے ہر جزو کی وضاحت ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دونوں رسولوں کا طریقہ بھی ان کے بعد قائم رہا۔ ان پر اللہ کی طرف سے برکت و سلامتی نازل ہوئی اور ان کے دشمن ذلیل و نامراد ہوئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے خوب کار وفا شعار بندوں کو اسی طرح صلہ دیا کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج بھی جو لوگ خدا اور اس کے دین کے لئے اس صدق و الخصا کا ثبوت دیں گے اسی طرح وہ بھی خدا کی رحمت و برکت کے مستحق ٹھہریں گے، اللہ تعالیٰ ان کے کام کو پائیداری بخشے گا ان کی دعوت کے حامل پیدا ہوں گے اور تاریخ میں ان کا نام روشن رہے گا۔
بعض انبیاء کا ذکر اجمال کے ساتھ حضرت الیاس
یہاں تک تاریخ کے جلیل القدر انبیاء اور ان کے کارناموں کا حوالہ تھا اور ان کے ذکر میں ترتیب بالکل تاریخی ہے۔ آگے اجمال کے ساتھ حضرت الیاس، حضرت لوط اور حضرت یونس (علیہم السلام) کی طرف اشارہ ہے۔
الیاس سے مراد وہی ہیں جن کا ذکر تورات میں ایلیا کے نام سے ہوا ہے اور جن کا زمانہ 789 ء قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔ سورة انعام آیت 85 میں ان کا نام حضرت زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کے ساتھ آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صفات کے اعتبار سے یہ انہی انبیاء کے زمرہ کے بنی ہیں۔ بعض لوگوں نے ان سے حضرت ادریس کو مراد لیا ہے لیکن یہ خیال غلط ہے۔ حضرت ادریس کا ذکر قرآن میں ان کے نام سے موجود ہے۔ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے رشتہ دار، ان کے ہم عصر اور انہی کے تربیت کردہ ہیں حضرت یونس ؑ کا ذکر سورة یونس اور سوہ انبیاء میں تفصیل سے ہوچکا ہے کہ یہ غیرت حق کے جوش سے مغلوب ہو کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلے ہی ہجرت فرما گئے تھے جس پر ان کو عتاب ہوا اور وہ قوم کی طرف پھر واپس کئے گئے اور ان کی دعوت سے پوری قوم ایمان لائی۔
ان انبیاء کے ذکر سے مقصود
مقصود ان انبیاء کے ذکر سے بھی اسی حقیقت کو واضح کرنا ہے جو اوپر کے انبیاء عظام کے ذکر میں اضح فرمائی گئی ہے کہ ہرچند انبیاء کو وہ قوت و جمعیت حاصل نہیں ہوئی جو نوح، ابراہیم اور موسیٰ کو حاصل ہوئی اور انہیں اپنے ماحول سے بالکل بیگانہ ماحول میں کام کرنا پڑا تاہم اللہ تعالیٰ نے ان کے کام کو بھی فروغ دیا اور ان کے بعد ان کی دعوت اور ان کی ملت بھی باقی رہی۔ سب سے آخر میں حضرت یونس کے ذکر کی یہ اہمیت ہے کہ دعوت حق کے کام میں عجلت، اگرچہ حمیت حق کے تقاضے ہی سے ہو، جائز نہیں ہے بلکہ صبر و استقلال کے ساتھ نبی کو اپنے کام میں گے رہنا چاہئے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کب تک کسی قوم میں زندگی کی رمق باقی ہے اور کب اس کا پیمانہ لبریز ہوا۔