Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 139

  1. وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ﴿139﴾

    1. وَاِنَّاور بیشک
    2. يُوْنُسَیونس
    3. لَمِنَالبتہ۔ سے
    4. الْمُرْسَلِيْنَرسولوں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فان یونس لمن المرسلین، اذا بق الی الفلک المشحون (140-139) حضرت یونس کی سرگزشت حضرت یونس ؑ کی سرگزشت سورة یونس اور سورة انبیاء وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ اس سرگزشت میں تورات کے راویوں نے جو خلط مبحث کردیا ہے اس پر اس کے محل میں ہم مفصل گفتگو کرچکے ہیں۔ یہ اہل نینوا کی طرف رسوال بنا کر بھیجے گئے تھے۔ ان کی قوم نے ان کی دعوت کی ناقدری کی تو یہ غیرق حق کے جوش میں قوم کو چھوڑ کر ایک ایسے جہاز پر سوار ہوگئے جو کسی مقام کے سفر کے لئے بالکل تیار کھڑا تھا۔ راستے میں جہاز طوفان میں گھر گیا۔ جہاز رانوں نے اپنی روایت کے مطابق یہ فیصلہ کیا کہ جہاز میں کوئی ایسا شخص سوار ہوگیا ہے جو مجرم ہے اور جب تک وہ الگ کر کے دریا میں نہیں ڈالا جائے گا جہاز اس ورطہ ہلاکت سے باہر نہیں نکل سکتا۔ بالآخر مجرم کو متعین کرنے کے لئے قرعہ کی نوبت آئی، قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور وہ دریا میں پھینک دیئے گئے۔ دریا میں ان کی غالباً کسی شارک نے نگل لیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تسبیح کی بدلوت ان کو بچایا اور مچھلی نے ان کو ساحل کی ریت پر اگل دیا۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے ساحل کی شدید تمازت آفتاب سے ان کو بچانے کے لئے کدو کی ایک بیل اگا دی جس کے سایہ نے اس کمزوری کی حالت میں ان کی حفاظت کی بالآخر جب ان کے اوسان بجا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر قوم کے پاس جانے اور اس کو دعوت دینے کی ہدایت فرمائی۔ اب کے انہوں نے دعوت دی دی تو اہل نینوا کی پوری آبادی جس کی تعداد ایک بلکہ ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ تھی ایمان لائی۔ یہ سرگزشت نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو اس غرض سے سنائیگئی ہے کہ وہ بھی قوم کے رویہ سے بد دل نہ ہوں بلکہ دعوت کے کام میں لیگ رہیں۔ نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق و باطل کی کشمکش کے ایکم حاذ پر امور ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ خدا کے حکم کے بغیر اس محاذ سے ہٹے اگرچہ اس کا محرک کوئی نیک جذبہ ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جو آزمائشیں اپنے رسول کے لئے لکھی ہیں اس کو ان سے بہرحال گزرنا ہے اگر وہ آزمائش سے گھبرائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ ایک آزمائش سے بچنے کی کوشش میں کسی دوسری اس سے بڑی آزمائش میں گرفاتر ہوجائے۔ اسی طرح قوم کو جو مہلت اتمام حجت کے لئے ملنی چاہئے وہ بھی سنت الٰہی کے مطابق ضروری ہے اور یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی قوم پر کب اللہ کی حجت پوری ہوئی۔ حضرت یونس ؑ نے اپنے گمان کے مطابق یہ فصلہ کرلیا کہ اہل نینوا ایمان لانے والے نہیں ہیں حالانکہ واقعات نے ثابت کردیا کہ پوری قوم میں ایمان لانے کی صلاحیت موجود تھی۔ حضرت یونس کی لغزش کی نوعیت اذا ابی الی الفلک المسحون ابنق سے اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جب حضرت یونس قوم کو چھوڑ کر کسی دوسرے مقام کو چلے جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ حضرات انبیاء نفس کی پیروی میں تو کبھی ٹھوکر نہیں کھاتے لیکن اتباع حق کے جوش میں کبھی کبھی وہ بھی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ چیز بجائے خود بری نہیں ہے بلکہ پسندیدہ ہے لیکن حضرات انبیاء چونکہ حق کی کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اس پہلو میں بھی اگر ان سے کوئی بےاعتدالی ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر بھی ان کی گرفت فرماتا ہے۔ حضرت یونس ؑ سے اسی طرح کی لغزش صادر ہوئی۔ ان کی قوم نے جب ان کی دعوت کی ناقدری کی تو وہ آزردہ ہو کر وہاں سے چل کھڑے ہوئے کہ ایسے ناقدروں کے آگے موتیوں کے پھینکنے سے کیا حاصل معلوم ہوتا ہے کہ واں سے کہیں جانے کا فصلہ کیا تو فوراً ہی کسی مقام کے سفر کے لئے کوئی جہاز بھی لدا پھندا تیار مل گیا مشعون کے معنی ہیں لدی اور بھری ہوئی کشتی۔ اس لفظ کے لانے سے مقصود یہاں اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ وہ قوم سے بزیار ہو کر کہیں چلے جانا چاہتے تھے، ان کی تمنا کے مطابق ان کو جہاز بھی تیار مل گیا اور وہ بےدنگ اس پر سوار ہوگئے۔ مسئلہ کے تمام پہلوئوں پر ان کو غور کرنے کا اچھی طرح موقع نہیں ملا۔