Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 159

  1. سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ﴿159﴾

    1. سُبْحٰنَ اللّٰهِپاک ہے اللہ
    2. عَمَّااس سے جو
    3. يَصِفُوْنَوہ بیان کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وجعلوا بینہ و بین الجنۃ نسبتاً ولقد علمت الجنۃ انھم لمحضرون، سبحن اللہ عما یصفون الا عباد اللہ المخلصین (160-159) فرشتوں کے علاوہ جنوں کو بھی انہوں نے خدا کے ساتھ بٹور رکھا ہے ان آیات میں سبحن اللہ عما یصفون بطور جملہ معترضہ ہے اور الا عباد اللہ المخلصین کا تعلق ولقد علت الجنۃ انھم لمحضرون سے ہے۔ قرآن میں متعدد نظریں موجود ہیں کہ جب کسی بات کی فوری تردید کی ضرورت ہوتی ہے تو تردید اصل سلسلہ کلام کے بیچ میں آجاتی ہے۔ اس سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ بات ایسی گھونی ہے کہ متکلم کو اس کی تردید کے معاملہ میں اتنا توقف بھی گوارا نہیں کہ اس کی بات پوری ہو لے۔ آیات کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے صرف یہی غضب نہیں کیا ہے کہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بنایا ہے بلکہ اس سے بھی بڑا سم یہ کیا ہے کہ جنوں اور خدا کے درمیان بھی انہوں نے رشتہ جوڑ رکھا ہے فرشتوں کو انہوں نے خدا کی ذات میں شریک بنایا ہے اور جنات کو خدا کے حقوق اور اس کی صفات میں عبادت خاص اللہ تعالیٰ کا حق ہے لیکن یہ بدقسمت لوگ جنوں کو نافع وفتار اور علم غیب کے حصل کا ذریعہ مانتے اور اس وہم کی بنیاد پر ان کی عبادت کرتے اور ان کے لئیقربانیاں اور چڑھاوے کا ذریعہ مانتے اور اس وہم کی بنیاد پر ان کی عبادت کرتے اور ان کے لئے قربانیاں اور چڑھا وے پیش کرتے ہیں۔ ولقد علمت الینہ انھم لمحصرون یعنی یہ بالکل مدعی سست اور گواہ چست، والی بات ہے۔ جنات کو تو اچھی طرح علم ہے کہ وہ خدا کی مخلوق ہیں اور ان کو اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے ایک دن اپنے رب کے حضور میں حاضر ہوتا ہے اور جوان میں مجرم ہوں گے وہ اپنے جرم کی پاداش میں مبتلائے عذاب ہوں گے۔ لیکن ان لال بجھکڑوں نے ان کو خدائی میں شریک مان کر ان کی پوجا شروع کررکھی ہے۔ ایک جملہ مقرض سبحن اللہ عما یبصرون یہ بات نہایت گھنائونی تھی کہ جنات کو خدا کے ساتھ جوڑ دیا جائے اس وجہ سے بلا توقف اس کی تردید فرما دی کہ خدا کی ذات والا صفات اس قسم کی تمام نسبتوں سے پاک ہے۔ نہ کوئی اس کی ذات میں شریک ہے۔ نہ صفات میں وہ اپنی ذات وصفات میں بالکل وحدہ لاشریک ہے اس وجہ سے وہ اپنے حقوق میں بھی بالکل یکتا اور لاشریک ہے۔ الا عباد اللہ المخلصین ! یہ استثناء انھم لمحصرون سے ہے چونکہ محصرون کے اندر یہ مفہوم موجود ہے کہ خدا کے حضور سب مجرموں کی طرح گرفتار کر کے حاضر کئے جائیں گے اس وجہ سے اس استثناء کے ذریعہ سے یہ بات واضح فرما دی کہ اس سے صرف وہی بچیں گے جن کو اللہ اپنی توفیق بخشی ہے اپنی سنت کے مطابق اپنی بندگی و اطاعت کے لئے خاص کرلے اور وہ شیطان کے فتنوں سے محفوظ رہ جائیں۔ زافحشری کو معلوم نہیں کیا مغالطہ پیش آیا کہ یہاں انہوں نے جنوں سے فرشتوں کو مراد لیا ہے۔ ہم نے آیات کی صحیح تاویل واضح کردی ہے۔ اس وجہ سے اس کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ قرآن ملا کہ درجنات کا ذکر دو بالکل مختلف الجنس اور مختلف الصفات مخلوقات کی حیثیت سے ہوا ہے۔ ان دونوں کو ایک قرار دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بس زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ جنات اپنی خلقت کے اعتبار سے انسان کے بالمقابل ملائکہ سے قریب تر ہیں اس لئے کہ جنات کی خلقت نار سے ہوئی ہے فرشتوں کے نور سے اور انسان کی مٹی ہے۔