تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 161
فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ﴿161﴾
- فَاِنَّكُمْتو بیشک تم
- وَمَااور جو
- تَعْبُدُوْنَتم پرستش کرتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس تم اور جن کو تم پوجتے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فانکم وماتعبدون ماانتم علیہ بقتنین والا ھو صال الجحیم (163-161)
اللہ تعالیٰ کی آزمائشیں صرف امتحان کے لئے ہیں
بعض اہل تاویل نے علیہ بفتنین میں علی کو خلاف کے مفہوم میں لیا ہے اور ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے۔ مجھے اس پر جزم نہیں ہے لیکن اگر یہ توجیہ قبول کرلی جائے تو ان آیات میں جنات پرستوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ تم اور تمہارے یہ معبود دونوں مل کر، اپنے اس فتنے کے ذریعے سے جو تم نے کھڑا کیا ہے۔ خدا سے صرف انہی لوگوں کو برگشتہ کرسکتے ہو جو اپنی بد اعمالیوں کے باعث خود جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ گویا جو بات ابلیس کے چیلنج کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی کہتیرا زور صرف انہی پر چلے گا جو تیرے پیروی کرنے والے بنیں گے میرے مخلص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا وہی بات یہاں دوسرے الفاظ میں فرما دی گئی ہے اور مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے نظام میں یہ آزمائش جو رکھی ہیں یہ لوگوں کو گمراہی میں ڈالنے کے لئے نہیں بلکہ محض امتحان کے لئے ہیں۔ اللہ کے جو بندے اس امحتان میں پورے اترنے کی کوشش کریں گے، شیطان اور اس کے پرستار ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
ضمیر محروہ کے مرجع سے متعلق قریشی کی رائے
استاذ امام ؒ کے نزدیک ضمیر مجرور کا مرجع ماتعبدون ہے۔ ان کے نزدیک تاویل یہ ہے کہ تم اپنے ان معبودوں پر صرف انہی لوگوں کو مفتون بنا سکتے ہو جو خود جہنم ہی میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اس تاویل پر بھی مجھے پورا جزم نہیں ہے۔ میں نے اس کا حالہ صرف اس لئے دے دیا ہے کہ جو اصحاب علم ان آیات پر غرو کرنا چاہیں وہ اس کو بھی سامنے رکھیں۔
فرشتوں کی حیثیت سے متعلق حضرت جبرئیل کا بیان
آیت
فرشتوں کی حیثیت سے متعلق اوپر جو باتیں بیان ہوئی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اب ان آیات میں فرشتوں کے گل سرسبد، حضرت جبریل امین اللہ تعالیٰ کے حم سے براہ راست اپنی اور تمام ملائکہ کی حیثیت واضح فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں ان کا مرتبہ و مقام کیا ہے اور اس کی بارگاہ میں وہ کن اعمال و اشغال میں مشغول رہتے ہیں۔ مقصود اس سے ان لوگوں کو تفضیح ہے جو فرشتوں کو خدائی میں شریک مان کر ان کی پرستش کر رہے تھے کہ وہ سن لیں کہ تمام فرشتوں کے سردار کا بیان کیا ہے اور یہ احمق لوگ فرشتوں کو کیا بنائے بیٹھے ہیں۔
یہ امر یہاں ملحوق رہے کہ قرآن میں متعدد نہایت واضح مثالیں اس کی موجود ہیں اثنائے کلام میں کوئی بات براہ راست حضرت جبریل کی زبانی کہلا دی گئی ہے۔ اس کی نظیر مطلوب ہو تو سورة مریم کی آیات 65-64 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہ طریقہ ان مواقع میں اختیار کیا گیا ہے جہاں بات حضرت جبرئیل کی زبان سے کئے جانے کے باعث زیادہ موثر اور بلیغ ہوگئی یہ۔ یہ موقع اسی قسم کا ہے۔ جو لوگ فرشتوں کے شریک خدا ہونے کے وہم میں مبتلا تھے ان کے وہم پر ضرب لگانے کے لئے سب سے زیادہ مئوثر چیز یہی ہو سکتی تھی کہ خود حضرت جبرئیل ان کے آگے اپنی اور پورے زمرہ ملائکہ کی حیثیت واضح کردیں۔ اس مقصد کے لئے حضرت جبرئیل ؑ کی شہادت سے بڑی شہادت کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ اب دیکھیے کہ حضرت جبرئیل کیا فرماتے ہیں۔