Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 167

  1. وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ﴿167﴾

    1. وَاِنْاور بیشک
    2. كَانُوْا لَيَقُوْلُوْنَوہ کہا کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور بیشک یہ لوگ کہتے رہے تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وان کانوا لیقولون لو ان عندنا ذکراً من الاولین تکنا عباد اللہ المخلصین، فکفروا بہ فسوف یعلمون (170-167) قریش کی ایک تعلق یہ مضمون پیچھے سورة فاطر کی آیت 42 میں بھی گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ قریش کے سامنے جب یہ بات آتی کہ یہود اور دوسری قوموں نے اپنے اپنے نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کی تو دو بانداز تعلی کہتے کہ بڑے ہی بدقسمت تھے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی، اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی تعلیم ہوتی یا ہمارے پاس اللہ کا کوئی رسول آتا تو ہم یہ رویہ نہ اختیار کرتے بلکہ ہم اس کی تعلیم کی پیروی کرتے اور خدا کے نہایت خاص بندے بن کر دکھا دیتے آدمی کو جو چیز حاصل نہ ہو اس کے متعلق وہ یہی دعویٰ کرتا ہے کہ اگر مجھے یہ چیز حاصل ہوجائے تو میں یہ کارنامے کر کے دکھادوں گا یکن جب وہ اس کو حاصل ہوجاتی ہے تو اکثر حالات میں وہ اگلے نالائقوں سے بھی بڑھ کر نالائق ثابت ہوتا ہے آج کتنے لوگ ہیں جو بڑے طنطنہ کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر ان کے ہاتھ میں حکومت کی باگ پکڑا دی جائے تو وہ دنیا کو خلافت فاروقی کا جلوہ از سر نو دکھا دیں گے لیکن جب ان کا امتحان ہوتا ہے تو وہ پہلے ہی قدم پر بالکل نالائق خائن اور چور ثابت ہوتے ہیں ایسے لوگ بہت کم نکلتے ہیں جو اس ذمہ داری کے اہل ثابت ہوں اور ان لوگوں کے اندر تو ایک بھی اہل نہیں نکلتا جو بڑے بلند بانگ و عادی کے ساتھ اس کے مدعی بن کر اٹھتے ہیں۔ اس دنیا کی پوری تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے۔