Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 170

  1. فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ﴿170﴾

    1. فَكَفَرُوْاپھر انہوں نے انکار کیا
    2. بِهٖاس کا
    3. فَسَوْفَتو عنقریب
    4. يَعْلَمُوْنَوہ جان لیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو انہوں نے اس کا انکار کردیا تو وہ نقریب جان لیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فکفروا بہ فسوف یعلمون فرمایا کہ یہ لوگ جس چیز کے متمنی اور مدعی تھے جب وہ آئی تو انہوں نے اس کا انکار کردیا اور اس کی تکذیب کے لئے طرح طرح کے بانے تلاش کر رے ہیں تو یہ عنقریب جان لیں گے کہ ان کی اس تکذیب کا کیا انجام ان کے سامنے آتا ہے۔ (آیت) یہ اس انجام کی طرف اشارہ ہے جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً دوچار ہونا پڑتا ہے اور مقصود اس سے قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو وہی سنت الٰہی ان کے باب میں بھی ظاہر ہوگی جو اس سے پہلے دوسرے مکذبین کے لئے ظاہر ہوچکی ہے۔ کلمۃ سے مراد یہاں وہ سنت الٰہی ہے جو اپنے رسولوں سے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جگہ جگہ واضح فرما دی ہے۔ مثلاً کتب اللہ لا فلبن انا ورسلی ان اللہ قبوی عزیز المجادلۃ (21) اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، بیشک اللہ قوی اور غالب ہے۔) انا لننصررسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشھاد (المومن 51) اور ہم لازماً اپنے رسولوں کی اور اہل ایمان کی مدد کریں گے دنیا کی زندگی میں بھی اور اس دن بھی جس دن گواہ گواہی دینے کو اٹھیں گے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگ وضاحت کرچکے ہیں کہ جس قوم پر اللہ تعالیٰ اپنے کسی رسول کے ذریعے سے حجت تمام کی اگر وہ ایمان نہیں لائی ہے تو لازماً تباہ کردی گئی ہے۔ رسول اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہوتا ہے اس وجہ سے اس کا ظہور قوم کے لئے خدا کی عدالت کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا ہوتی ہے وہ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے غلبہ اور اس کے مخالفوں کی تباہی پر منتہی ہوتی ہے۔ ہم نے اس سنت کے تمام مراحل کی وضاحت اس کے محل میں کردی ہے۔ یہاں نبی اور رسول کے اس فرق کو بھی محلوظ رکھیے جس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔