Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 3

  1. فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ﴿3﴾

    1. فَالتّٰلِيٰتِپھر تلاوت کرنے والے
    2. ذِكْرًاذکر (قرآن)
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر ذکر کرنے والے (اپنے رب کا)
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 3 یہ ان فرشتوں کی تیسری صفت ہے۔ تلاوتِ ذکر سے مراد وہی چیز ہے جو سورة زمر میں یسبحون بحمد ربھم ‘ کے الفاط سے اور اس سورة میں وانا النحن المسبحون ‘ کے الفاظ سے مذکور ہوئی ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حمدو تسبیح کرتے ہیں۔ یہاں عربی زبان کا یہ قاعدہ پیش نظر رہے کہ جب صفات کا بیان اس طرح ’‘ کے ساتھ ہو جس طرح یہاں ہے تو یہ دو باتوں پر دلیل ہوتا ہے۔ ایک اس بات پر کہ یہ تمام صفات ایک ہی چیز کی ہیں اس وجہ سے جن لوگوں نے ان صفات کے الگ الگ موصوف قرار دیے ہیں ان کی رائے ہمارے نزدیک عربیت کے خلاف ہے۔ دوسری اس بات پر کہ ان صفات میں ایک تدریجی ترتیب ہے۔ ہم نے جو تاویل کی ہے اس سے پہلی تو بالکل واضح ہے کہ یہ تمام صفات ملائکہ کی ہیں۔ رہی دوسری بات تو غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ان صفات میں اسی طرح کی ترتیب ہے جس طرح کی ترتیب ہماری نمازوں میں ہوتی ہے۔ جس طرح ہم خدا کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر شیطان سے تعوذ کرتے ہیں۔ پھر اپنے رب کی حمدو تسبیح کرتے ہیں۔ اسی طرح ملائکہ عرشِ الٰہی کے ارد گرد صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر شیاطین کو زجر کرتے ہیں، پھر اپنے رب کی حمد و تسیبح کرتے ہیں۔