Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 60

Tafseer
  1. اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ﴿60﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. ھٰذَایہ
    3. لَهُوَالبتہ وہ
    4. الْفَوْزُ الْعَظِيْمُکامیابی عظیم
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک بڑی کامیابی یہی ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان ھذا لھوا لغور العظیم، بمثل ھذا فلیعمل الغلمون (61-60) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی بات پر استدراک ہے کہ اصل کامیابی یہ ہے جو اللہ کے ان بندوں کو حاصل ہوگی جو آخرت کو پیش نظر رکھ کر زندگی گزاریں گے تو جس کو بازی کھیلنی ہو اس کے لئے بازی کھیلے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ رات دن دنیا کے عشق ہی میں سرگرم ہیں اگر انہوں نے کوئی کامیابی حاصل بھی کرلی تو کتنے دنوں کے لئے بالآخر مرنا اور ایک دن دزاء و سزا کے لئے خدا کے حضور پیش ہونا ہے تو اس حیات چند روزہ کی خاطر اپنی تمام مساعی برباد کرنے کے بجائے ابدی کامیابی کے لئے کمر ہمت کیوں نہ باندھیں ! (آیت) اہل دوزخ کا حشر اہل جنت کے بعد اب یہ اہل دوزخ کے ضیافت کا بیان ہے۔ اس کا آغاز اس سوال سے کیا ہے کہ اہل جنت کو جو کچھ حاصل ہوگا اس کا ذکر تو سن چکے اب یہ بتائو کہ یہ ضیافت ہبرت ہے یا زقوم والی ضیافت جس سے اہل دوزخ کو سابقہ پیش آنا ہے ! انا جھلنھا الایۃ فرمایا کہ اس درخت کو ان ظالموں کے لئے ہم نے ایک فتنہ بنایا ہے جس کی آڑ لے کر انہوں نے دوزخ کا خوب خوب مذاق اڑایا ہے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جیان کو قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ دوزخ میں ان کو کھانے کو زقوم ملے گا تو انہوں نے اس سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے اس پر فقرے چست کئے کہ خوب ہے یہ دوزخ کہ اس میں آگ بھی ہوگی، درخت بھی ہوں گے اور پانی بھی ! فرمایا کہ یہ درخت ان کے لئے فتنہ بن گیا اور اس کے پردے میں انہوں نے ایک ایسی حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کی جس سے بہرحال انہیں سابقہ پیش آنا ہے۔