تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 83
Tafseerوَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ﴿83﴾
- وَاِنَّاور بیشک
- مِنْسے
- شِيْعَتِهٖاس کے طریقے پر چلنے والے
- لَاِبْرٰهِيْمَالبتہ ابراہیم
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اسی کی جماعت میں سے ابراہیم بھی تھا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وان من شیعتہ الابراہیم (83)
حضرت ابراہیم اور ان کی دعوت
حضرت نوح ؑ کے بعد سب سے زیادہ جلیل القدر نبی و رسول حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔ ان کی نسبت فرمایا کہ یہ بھی انہی کے زمرہ اور گروہ میں سے ہیں۔ جو دعوت خلق کو انہوں نے دی وہی دعوت انہوں نے بھی دی اور اللہ کی راہ میں جس ایمان و احسان کا مظاہرہ انہوں نے کیا اسی صدق و اخلاص کا مظاہرہ انہوں نے بھی کیا۔ اوپر آیت 78 میں یہ بات جو فرمائی ہے کہ نوح کی ملت پر ہم نے پچھلوں میں سے ایک گروہ کو قائم رکھا یہ اسی کے تسلسل کی طرف اشارہ ہے کہ جس ملت کے داعی حضرت نوح تھے اسی ملت کے داعی بن کر حضرت ابراہیم ؑ اٹھے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ تمام انبیاء کی ملت اصلاً ایک ہی ہے اور وہ ہے ملت اسلام ! اس مسئلہ پر مفصل بحث اس کے محل میں گزر چکی ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ تاطور سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی تربیت حضرت نوح ؑ نے فرمائی ہے۔ اگرچہ اس روایت پر میں مطمئن نہیں ہوں لیکن اس کی صحت اگر باور کرلی جائے تو حضرت ابراہیم ؑ کے حضرت نوح ؑ کے زمرے میں سے ہہونے کا ایک اور پہلو بھی نکل آتا ہے۔
یہ تعبیر حضرت ابراہیم ؑ کی کامل حنیفیت، اللہ کی طرف ان کی پوری یکسوئی اور ان کے کمال صدق و اخلاص کی۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک و نفاحی کے امراض سے بالکل محفوظ پاک ہو۔ سورة شعراء میں یہ۔ یوم لا ینفع مال ولاینون الا من اتی اللہ بقلب سلیم (89-81) اس دن کو یاد رکھو جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد صرف وہ لوگ فیروز مند ہوں گے جو خدا کے حضور میں قلب سلیم لے کر حاضر ہوں گے) یہ یعنی نہ تو ان کے دلوں کے اندر شرک و نفاق کا کوئی روگ ہوگا اور نہ ان کی وفا داری منقسم ہوگی بلکہ ان کے دل پر آلائش سے پاک ہوں گے اور ان کی محبت و اطاعت تمام تر اللہ واحد کے لئے ہوگی۔