بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tadabbur-e-Quran - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
یہ سورة ص ہے۔ قسم ہے یاد دہانی سے معمور قرآن کی (کہ اس کی ہر بات حق ہے)
-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ص و القران ذی الذکر (1) ص حروف مقطعات میں سے ہے۔ یہ اس سورة کا قرآنی نام ہے ان حرف پر جامع بحث بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ محض تکلف ہے۔ قرآن کے مذکر سے موسوم ہونے کے بعض پہلو والقرآن ذی الذکر جس طرح قرآن کی قسم سورة یٰسین میں حکیم کی صفت کے ساتھ وارد ہوئی ہے اسی طرح یہاں ذی الذکر کی صفت کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ ذکر کا اصل مفہم یاد دہانی کرنا ہے۔ قرآن سر تا سریا دوہائی ہے۔ اس وجہ سے اس کا نام بھی جگہ جگہ ذکر آیا ہے۔ آگے آیت 8 میں اس کا یہی نام آیا ہے۔ اس کے اس نام اور اس صفت سے موسوم و موصوف ہونے کے کئی پہلو ہیں۔ …یہ ان تمام حقائق کی یاد دہانی کرتا ہے جو انسان کی فطرت کے اندر ودیعت ہیں لیکن انسان ان کو بھولا ہوا ہے۔ … اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے خلق کے لئے جو ہدایت نازل فرمائی اور جس کو لو گبھلا بیٹھے تھے، یہ اس کی بھی یاد دہانی کرتا ہے۔ …رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو جس انجام سے دوچار ہونا پڑا، یہ ان سے بھی باخبر کرتا ہے۔ …اس دنیا کی زندگی کے بعد جس مرحلہ حساب و کتاب اور جزاء و سزا سے لوگوں کو سابقہ پیش آتا ہے۔ یہ اس کو بھی یاد دلاتا ہے۔ یہ سارے پہلو اس کی صفت ذی الذکر کے اندر موجود ہیں۔ آگے اسی سورة کی آیات 17-8، 49-46 اور 86 کے تحت ان کی وضاحت آرہی ہے۔ مقسم پر قسم کے اندر مضمر ہے اس قسم کا مقسم علیہ یہاں الفاظ میں مذکور نہیں ہے بلکہ وہ قسم کے اندر ہی مضمر ہے۔ یہ طریقہ ان مواقع میں اختیار کیا جاتا ہے جہاں قسم کی نوعیت ایسی ہو کہ مقسم علیہ ذکر کے بغیر اس سے واضح ہو رہا ہو یہاں یہی صورت ہے مقصد یہ ہے کہ قرآن جن یاد دہانیوں سے مملو ہے وہ اس بات پر شاید ہیں کہ آج قریش کو جن باتوں کی تذکیر کی جا رہی ہے وہ بالکل ناقابل انکار ہیں۔ اگر وہ ان کو نہیں مان رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قرآن کے اندر کسی ریپ و شک کی گنجائش ہے بلکہ اس کا سببمحض ان کی انانیت اور مخاصمت ہے۔
Top