Tadabbur-e-Quran - Saad : 12
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ
كَذَّبَتْ : جھٹلایا قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے قَوْمُ : قوم نُوْحٍ : نوح وَّعَادٌ : اور عاد وَّفِرْعَوْنُ : اور فرعون ذُوالْاَوْتَادِ : میخوں والا
ان سے پہلے قم نوح، عاد اور کثہ لشکروں والے فرعون نے تکذیب کی
آیت ذوالاوتادا ذوالاوتاد کا لفظی ترجمہ ہوگا میخوں والا لیکن عربی میں میخوں سے خیموں کو تعبیر کرتے ہیں اور پھر خیموں سے بطریق کنایہ فوجیں مراد لیتے ہیں۔ یہ اسی طرح کا کنایہ ہے جس طرح قدور راسیات سے کسی شخص کی فیاضی کو تعبیر کرتے ہیں، چناچہ قرآن میں حضرت سلیمان ؑ کی فیاضی کی تعبیر کے لئے یہ کنایہ آیا ہے۔ یہاں ذوالاوتاد سے فرعون کی کثیر فوجوں کی طرف اشارہ ہے جو خیموں میں رہتی ھتیں۔ فرعون کی فوجوں کی کثرت کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے اور یہ تمام فوجیں اس کے ساتھ عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر سمندر میں غرق ہوئیں۔ اصحب المئیکۃ سے مراد اصحاب مدین ہیں۔ ایکۃ کے معنی جنگل کے ہیں۔ معلم ہوتا ہے مدین کے پاس کوئی جنگل بھی تھا اس وجہ سے یہ لوگ اس نام سے بھی معروف تھے۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ اوپر آیت 8 میں یہ بات جو فرمائی ہے کہ جب عذاب الٰہی آجائے گا تو کسی جماعت یا قوم کی قوت و حمیت کتنی ہی ہ، وہ اس کے مقابل میں نہیں ٹک سکے گی، یہ اسی بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ ان تمام قوموں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور جب اس کی پاداش میں ان پر اللہ کا ع ذاب آیا تو ان میں سے کوئی بھی اس کے مقابل میں نہ ٹک سکی۔ اولئک الاحزاب میں خبر حذف کردی گئی ہے۔ اس لئے کہ موقع پو محل سے یہ خود واضح ہے اور بعد کا ٹکڑا اس کو مزید واضح کر رہا ہے۔ یعنی دیکھ لو یہ بڑی نامی گرامی قومیں تھیں لیکن ان کو حشر کیا ہوا ! جب اللہ کا عذاب آیا تو یہ سب خس و خاشاک کی طرح اڑ گئیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے اگر تم نے بھی انہی کی روش اختیار کی۔
Top