Tadabbur-e-Quran - Saad : 20
وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ
وَشَدَدْنَا : اور ہم نے مضبوط کی مُلْكَهٗ : اس کی بادشاہت وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے اس کو دی الْحِكْمَةَ : حکمت وَفَصْلَ : اور فیصلہ کن الْخِطَابِ : خطاب
ہم نے اس کی سلطنت مستحکم کردی تھی اور اس کو حکمت اور معاملات کے فیصلہ کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔
وشددنا مکلہ وا تینہ الحکمۃ و فصل الخطاب (20) حضرت دائود کی قوت و صولت یہ حضرت دائود ؑ کی قوت و صولت کا بیان ہے جس کا ذکر اوپر ذوالاید کے لفظ سے ہوا ہے شدونا ملکہ یعنی ہم نے اس کی حکومت اچھی طرح مستحکم کی تھی اور اس کو مستحکم رکھنے کے لئے اس کو حکمت اور فصل خطاب کی صلاحت سے نوازا تھا۔ حکمت کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی فصل خطاب سے مراد فیصلہ نزاعات کی صلاحیت ہے۔ لفظ خطاب آگے آیت 23 میں بحث و نزاع کے مفہوم میں آیا بھی ہے۔ حکومت کے استحکام کے لئے دل سے فیصلہ معاملات کی صلاحیت سے بھرپور ہوں۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو حکومت کی بنیاد ریت پر ہے اگرچہ اس کے پاس دوسرے اسباب و وسائل کی کتنی ہی وافر مقدار موجود ہو۔ یہ حکمت اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط تعق سے حاصل اور اپنے ساتھ اپنی پوری قوم کی تباہی کے اسباب فراہم کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں حکومت کی طاقت کا ہونا ویسا ہی ہے جیسے نادان کے ہاتھ میں تلوار ہو۔
Top