Tadabbur-e-Quran - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لِدَاوٗدَ : داؤد کو سُلَيْمٰنَ ۭ : سلیمان نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : بہت اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : رجوع کرنے والا
اور ہم نے دائود ؑ کو سیمان عطا کیا۔ وہ خوب بندہ تھا۔ بیشک وہ خدا کی طرف بڑا ہی رجوع ہونے والا تھا !
4۔ آگے کا مضمون آیات 30-40 آگے حضرت دائود ؑ کے نامور فرزند حضرت سلیمان کے بعض واقعات زندگی کا حوالہ دے کر واضح فرمایا ہے کہ وہ بھی ٹھیک ٹھیک اپنے باپ ہی کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بےمثال عظمت و شوکت عطا فرمائی لیکن وہ کبر و غرور میں مبتلا ہو کر زمین میں فساد برپا کرنے والے نہیں بنے بلکہ جو قدم بھی وہ اٹھاتے اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اٹھاتے اور اگر کوئی ادنیٰ فروگزاشت بھی ہوجاتی تو فوراً توبہ و استغفار کے لئے اپنے رب کے آگے گر پڑتے۔ یہ واقعات بھی قریش کے لیڈروں کو تذکیر و تنبیہ کے لئے سنائے گئے ہیں … آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ووھبنا لدائود سلیمن ط نعم العبد انہ اواب (30) حضرت سلیمان ؑ کا ذکر حضرت دائود ؑ کی طرف انتساب کے ساتھ، اس طرح یہاں آیا ہے گویا وہ نض کی طرف سے حضرت دائود ؑ کو ان کی نیکیوں کے انعام کے طور پر ملے ہوں۔ بندہ کا اصل کمال اس کی جدیت ہے نعم العبد یہ اس عظیم فرزند کی سب سے بڑی خوبی بیان ہوئی کہ وہ خوب بندہ تھا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے ان تمام خوارق و عجائب میں سے جن سے کتابیں بھیر پڑی ہیں، کسی چیز کا ذکر یہاں نہیں ہوا اگر ذکر ہوا تو ان کے کمال عبدیت کا ذکر ہوا۔ بندے کی اصلی خوبی یہی ہے کہ وہ اپنے رب کا ایسا بندہ بن جائے کہ اس کا رب بھی شہادت دے کہ خوب بندہ ہے ! اگر یہ کمال اس کو حاصل ہے تو دوسرے تمام کمالات اسی کو برکات میں سے ہیں اور اگر یہ چیز حاصل نہیں تو کسی کو خاتم سلیمان بھی حاصل ہوجائے تو اس کی عند اللہ کوئی قیمت نہیں۔ عبدیت کا اصلی جمال ادابیت ہے انہ اوبہ یہی صفت بعینہ حضرت دائود ؑ کے لئے بھی اوپر بیان ہوچکی ہے۔ یعنی اس صفت میں بیٹا اپنے باپ کا ہو بہو عکس تھا۔ عبدیت کا اصلی جمال اوابیت میں ہے یعنی بندے کا دل ہر وقت خدا کی طرف متوجہ رہے اور اگر کبھی کسی سبب سے ذرا بھی غفلت ہوجائے تو اس طرح ٹوٹ کر اپنے رب کی طرف گرے کہ برسوں کی منزل منٹوں میں طے کرے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی یہی اداسب سے زیادہ پسند ہے۔ گناہ سے آدمی جتنا کھوتا ہے اس سے کہیں زیادہ وہ اس سے پا لیتا ہے اگر وہ سچے دل سے گناہ کے بعد توبہ کرلیتا ہے۔
Top