Tadabbur-e-Quran - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک آگاہ کرنے والا آیا اور کافروں نے کہا یہ تو ساحر اور جھوٹا ہے۔
وعجبوآ ان جآء ھم منذرمنھم وقال الکفرون ھذا سخر کذاب (4) مکذبین کا غرور یعنی ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ انہی کے اندر کا ایک شخص ان کے لئے خدا کا منذربن کر آیا۔ خدا کو کوئی منذر ہی بھیجنا ہوتا تو کسی مافوق بشر ہستی کو منذر بناتا، انہی جیسے ایک انسان کو منذر بنانے کے کیا معنی ! اور اگر انسان ہی کو منذر بنانا تھا تو آخر خدا کی نظر ایک غریب آدمی پر کیوں پڑی، مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو اس مقصد کے لئے اس نے کیوں نہیں انتخاب کیا ؟ گویا پیغمبر کی بشریت بھی ان کے لئے وجہ انکار بنی اور ان کی غربت و ناداری بھی۔ اس آیت میں پہلی وجہ انکار کی طرف اشارہ ہے۔ آگے آیت 8 میں دوسری وجہ انکار کا ذکر آ رہا ہے اور یہ دونوں ہی باتیں غرور اور گھمنڈ میں داخل ہیں جس کا ذکر اوپر لفظ عزت سے ہوا ہے۔ قرآن سے عوام کو برگشتہ کرنے کے لئے قریش کے لیڈروں کا ایک اشغلا وقال الکفرون ھذا ساحر کذاب یعنی اپنے اس عجب و استکبار کی بنا پر ان کافروں نے ہمارے پیغمبر کو ساحر اور کذاب قرار دیا۔ آنحضرت ﷺ کو ساحر اور قرآن کو سحر کہنے کی وجہ واضح کرچکے ہیں کہ قریش کے لئے قرآن کی معجزانہ فصاحت و بلاغت سے تو انکاری کی کوئی گنجائش نہیں تھی لیکن وہ اپنے عوام پر یہ اثر نہیں پڑنے دیتا چاہتے تھے کہ وہ اس فصاحت و بلاغت سے مسحور ہو کہ اس کو کلام الٰہی مان لیں۔ اس چیز سے لوگوں کو بچانے کے لئے وہ قرآن کو سحر اور آنحضرت ﷺ کو ساحر کہتے اور لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ اس شخص کے کلام میں جو تاثیر و تسخیر ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اس پر آسمان سے وحی آتی ہے بلکہ یہ کلام کا جادو گر ہے اس وجہ سے اس کی باتیں دلوں پر اثر کرتی ہیں۔ قرآن کو شعر اور آنحضرت ﷺ کو شاعر کہنے کی وجہ بھی یہی تھی۔ کذاب کے معنی ہیں جھوٹا، لپاٹیا او لاف زن یہ لفظ وہ آنحضرت ﷺ کے دعوائے نبوت کی تردید کے جوش میں کہتے یعنی ہے تو یہ شخص کلام کا جادوگر لیکن عوام پر اپنی دھونس جمانے کے لئے دعویٰ یہ کرتا ہے کہ وہ جو کچھ لوگوں کو سنا رہا ہے وہ خدا کی طرف سے اس پر وحی ہوتا ہے اور وہ خدا کا منذر ہو کر آیا ہے۔ چونکہ ان کو اصل چڑ آنحضرت ﷺ کے دعوائے نبوت ہی سے تھی اس وجہ سے اس کی تردید میں وہ نہایت سخت تھے جس کا اظہار اس لفظ سے بھی ہو رہا ہے۔ اس آیت کا اسلوب بیان شاہد ہے کہ اس میں ان محروم القسمت لوگوں کے حال پر اظہار حسرت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان کی تنبیہ و تذکیر کے لئے ان کے اندر ایک منذر بھیجا، ان کے لئے ایک یاد دہانی کرنے والی کتاب نازل فرمائی لین وہ غرور کے سبب سے اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ انہی جیسا ایک بشر ان کے پاس انذار کے ئے ائے اس رعونت میں ان کافروں نے اللہ کے رسول کو ساحر اور کذاب بنا ڈالا۔
Top