Tadabbur-e-Quran - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب کہ اس نے اپنے رب سے فریاد کی کہ شیطان نے مجھے سخت دکھ اور آزاد میں مبتلا کر رکھا ہے۔
6۔ آگے کا مضمون۔ آیات 64-41 آگے نبی ﷺ کی تسلی کے لئے پہلے چند انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا ہے جن کو بڑی بڑی آزمائش پیش آئیں لیکن وہ ان سے دلبرداشتہ اور میاوس نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے حالات کا صبر و عزیمت سے مقابلہ کیا، اپنی تکالیف میں اپنے رب ہی سے رجوع کیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام تکلیفیں دور فرما دیں اور ان کو اپنے فضل و انعام سے نوازا۔ پھر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین ٹھکانا اس کے منفی بندوں ہی کے لئے ہے۔ اس کے بعد متقیوں اور طاغیوں کے انجام کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت کیجیے۔ 7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حضرت ایوب کا ابتلاء واذکر عبدنآ ایوب اذ نادی ربہ انی متنی الشیطن بنصبر عذاب (41) حضرت ایوب کے ابتلاء کی تفصیل سورة انبیاء کی تفسیر میں ہم پیش کرچکے ہیں۔ یہاں صرف انہی چیزوں سے تعرض کریں گے جو خاص اس سورة سے متعلق ہیں۔ بندے کو جو آزمائشیں پیش آتی ہیں وہ پیش تو اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے آتی ہیں لیکن ان کے پیش آنے میں ایک اہم عامل شیطان بھی ہوا کرتا ہے اس وجہ سے مشیت وقدرت کے پہلو سے وہ خدا کی طرف منسوب ہوتی ہیں اور سبب کے پہلو سے شیطان کی طرف۔ اسی پہلو سے حضرت ایوب ؑ نے اپنے دکھ اور آزاد کو شیطان کی طرف منسوب کیا سفر ایوب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ایوب کو بڑی دولت و حشمت حاصل تھی لیکن اس کے باوجود وہ نہایت خدا ترس اور عبادت گزار بندے تھے۔ ان کی اس حالت پر شیطان اور اس کے ایجنٹوں کو بڑا حسد ہوا اور انہوں نے ان کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ اگر ایوب دن رات خدا کی عبادت ہی میں لگے رہتے ہیں تو یہ کیا کمال ہوا خدا نے جب اتنا مال و اسباب دے رکھا ہے تو عبادت نہ کریں تو اور کیا کریں، ہم تو جب جانیں جب خدا یہ ساری چیزیں ان سے چھین لے اور پھر بھی وہ اس کے عبادت گزار ہیں ! بالآخر اللہ تعالیٰ نے ہر چیز سے ان کو محروم کردیا نہ ان کے پاس مال کے قسم کی کوئی چیز باقی رہ گئی اور نہ اولاد و احقاد اور خدم و حشم باقی رہ گئے لیکن وہ اس عظیم مصیبت سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ اپنے رب کے حضور سجدے میں گر پڑے اور فرمایا کہ میں اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا پیدا ہوا تھا اور اب ننگا ہی اپنے رب کے پاس جائوں گا۔ سفر ایوب میں ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شیطان سے کہا کہ تو نے میرے بندے کو دیکھ لیا کہ سب کچھ چھن جانے کے بعد بھی وہ میرا ہی ہے۔ اس پر شیطان نے کہا کہ یہ مال و اولاد کا معاملہ تھا اس وجہ سے وہ صبر کر گیا، میں تو جب جانوں جب تو اس کو شدید قسم کے جسمانی آزاروں میں مبتلا کرے اور پھر بھی وہ تیرا عبادت گزار رہ جائے ! چناچہ اس کے بعد وہ ایسے شدید قسم کے جسمانی آزاد میں مبتلا ہوئے کہ سفر ایوب میں اس کی تفصیل پڑھیے تو دل کا نپ جاتا ہے لیکن اس کے بعد ان کی انابت اللہ کی طرف اور بڑھ گئی اور اس آزمائش میں بھی انہوں نے شیطان کو شکست دے دی۔ شیطان کی اس شکست کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کو اس سے کہیں زیادہ بخشا جو ان سے چھینا گیا تھا۔ یہ تفصیل سفر ایوب کی روشنی میں ہم نے اس لئے پیش کی ہے کہ حضرت ایوب کی فریاد مستی الشیطن بنصب و عذاب کا صحیح پہلو سمجھ میں آسکے کہ اس دنیا میں اپنے رب کے ساتھ اپنی وفا داری کا ثبوت دینے کے لئے شیطان کے ہاتھوں ان کو کیا کیا دکھ جھیلنے پڑے ہیں اور کیسی شدید لڑائی انہوں نے اس کے ساتھ لڑی یہ۔ نصب کے معنی تکان دکھ اور مصیبت کے ہیں اور عذاب سے مراد وہ اذیتیں ہیں جو جسمانی مرانس کی نوعیت کی ان کو پہنچیں ان دونوں لفظوں نے ان تمام مصائب کو سمیٹ لیا ہے جن میں وہ مبتلا ہوئے۔
Top