Tadabbur-e-Quran - Saad : 46
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ
اِنَّآ : بیشک ہم اَخْلَصْنٰهُمْ : ہم نے انہیں ممتاز کیا بِخَالِصَةٍ : خاص صفت ذِكْرَى : یاد الدَّارِ : گھر ( آخرت کا)
ہم نے ان کو ایک خاص متن … آخرت کی یاد دہانی … پر امور کیا تھا
(آیت) حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق و حضرت یعقوب (علیہم السلام) کا خاص مشن یہ حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) کی یاد دہانی فرمائی۔ یہ اسرائیلی سلسلہ رشد و ہدایت کے اصل عمائد ہیں۔ ان لوگوں کو پدر سرا نہ قسم کی سرداری بھی حاصل رہی اور روحانی بصیرت بھی۔ اس وجہ سے ان کی صفت اولوالایدی والابصار آئی ہے یعنی ان کو قوت اور بصیرت دونوں نعمتوں سے اللہ تعالیٰ نے نواز تھا۔ اگر قوت کے ساتھ بصیرت نہ ہو تو آدمی ایک نہایت خطرناک جانو بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ ان کو ہم نے آخرت کی یاد دہانی کے خاص مشن پر مامور کیا تھا اور وہ ہمارے خاص برگزیدہ اخبار میں سے تھے۔ ذکری الدار، خالصۃ سے بدل واقع ہے اور دار وار آخرت کے مفہوم میں ہے اس لیء کہ اصلی گھر وہی ہے۔ یہ دنیا محض ایک سرائے فانی ہے۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا اصلی کام درحقیقت آخرت کی یاد دہانی ہی ہے اس لئے کہ آخرت کی یاد ہی تمام صلاح و فلاح کی کلید ہے۔ اگر انسان اس سے غافل ہوجائے تو وہ شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ اور اگر اس کی یاد اس کے اندر زندہ رہے تو وہ لغزشوں کے باوجود صراط مستقیم پر گامزن رہتا ہے۔
Top