Tadabbur-e-Quran - Saad : 7
مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ
مَا سَمِعْنَا : ہم نے نہیں سنا بِھٰذَا : ایسی فِي : میں الْمِلَّةِ : مذہب الْاٰخِرَةِ ښ : پچھلا اِنْ : نہیں ھٰذَآ : یہ اِلَّا : مگر۔ محض اخْتِلَاقٌ : من گھڑت
ہم نے یہ بات اس دور آخر میں تو سنی نہیں ! یہ محض ایک من گھڑت بات ہے !
ماسمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ ان ھذا الا احتلق (7) عرب کی تاریخ سے متعلق قرآن اور قریش کے نقطہ نظر کا اختلاف یہ قریش کی طرف سے اس تاریخ کی تردید ہے جو آنحضرت ﷺ ملت عرب کی بیان فرماتے۔ آپ نے حضرت نوح ؑ سے لے کر سیدنا حضرت ابراہیم ؑ اور بعد کے انبیاء کی تاریخ سے یہ واضح فرما دیا تھا کہ ان تمام انبیاء نے توحید خالص کی تعلیم دی، خاص کر حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیم دعوت اور حضرت اسماعیل اور بیت اللہ کی جو تاریخ قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے اس کا مقصد عربوں پر اسی حقیقت کو اضح کرنا تھا کہ ان کی ملت کی اصل تاریخ حضرت ابراہیم ابراہیم ؑ و حضرت اسماعیل سے شروع ہوتی ہے اور ان بزرگ نبیوں نے اپنی اولاد کو اس سر زمین میں اسلام کی خدمت اور توحید خالص کی دعوت کے لئے بسایا تھا اور اسی مقصد کے لئے اس گھر کی تعمیر فرمائی تھی جس کے آج قریش متولی بنے ہوئے ہیں اور جس کے کونے کونے میں انہوں نے بتوں کو لا بسایا ہے۔ یہ تاریخ قریش کے تمام مزعومات پر ایک ضرب کاری تھی لیکن یہ اس قدر واضح اور دل نشین تھی جو لوگوں کو اپیل کرسکے لیکن وہ اپنے گھمنڈ اور اپنی مکابرت کے سبب سے اس کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے اس وجہ سے کہتے کہ یہ توحید کی بات ہم نے اپنی ملت کے دور آخر میں تو سنی نہیں اس وجہ سے یہ ساری داساتن جو توحید کے حق میں ہم کو سنائی جاتی ہے بالکل من گھڑت ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر ملت عرب کی تاریخ یہ ہوتی جو قرآن میں بیان کی جا رہی ہے اور جس کو محمد ﷺ اس تحدی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں تو آخر اس کی کچھ صدائے بازگشت اس ملت کے دور آخر میں بھی تو ہونی چاہئے تھی ! لیکن ہم نے اپنے آبائو و اجداد سے تو اس طرح کی کوئی بات نہیں سنی۔ ہم نے یہی دین ان سے پایا۔ اسی پر چل رہے ہیں اور اسی پر چلتے رہیں گے۔ بعض لوگوں نے ملت آخرہ سے ملت عیسوی کو مراد لیا ہے لیکن اس کا کوئی قرینہ یہاں نہیں ہے۔ ملت عیسوی کا حالہ تو اس شکل میں ان کے لئے معتبر و مئوثر ہوتا جب وہ اور ان کے عوام اس کے معتقد ہوتے یا آنحضرت ﷺ نے توحید کی دعوت ملت عیسوی کی بنیاد پر دی ہوتی۔ آیت قریش کے پندار سیات پر ضرب یعنی وہ اپنی ریاست و امارت کے غرور میں کہت یہیں کہ اگر خدا کو کوئی کتاب کسی بشر پر اتارنی ہی پڑتی تو کیا اس کے لئے ہمارے اندر سے اس کو یہی (محمد ﷺ ملے ! اللہ تعالیٰ اگر یہ کام کرنا چاہتا تو اس کے لئے وہ مکہ یا طائف کے زئیسوں میں سے کسی کا انتخاب کرتا نہ کہ ان کے جیسے ایک مفلس و انادار آدمی کا اس نے تمام سرفرازیاں تو ہم کو بخشیں تو اس عزت کے ئے وہ ان کا انتخاب کیوں کرتا ؟ یہ ان کے اس پندار کا بیان ہے جس کا ذکر آیت 2 میں فی عزۃ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ ان کے اس پندار پر ضرب لگانے کے لئے فرمایا کہ بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب، کہ ان کی یہ تمام مشیخت مآبیاں اس وجہ سے ہیں کہ ان کو اس قرآن کے ذریعے جس عذاب کی یاد دہانی کی جا رہی اس کی طرف سے ابھی وہ شک میں ہیں، یہ اس کو محض ہوائی بات سمجھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک وہ ان کے سامنے آیا نہیں اور یہ لوگ مجرو باتوں سے قائل ہونے والے آسامی نہیں ہیں بلکہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ماننے والے لوگ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ابھی تو ان کو دلیلوں سے سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اگر یہ دلیلوں سے نہ سمجھے تو بالاخر عذاب کا تازیانہ بھی ان کے لئے نمودار ہوجائے گا۔
Top