Tadabbur-e-Quran - Saad : 75
قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يٰٓاِبْلِيْسُ : اے ابلیس مَا مَنَعَكَ : کس نے منع کیا تجھے اَنْ تَسْجُدَ : کہ تو سجدہ کرے لِمَا : اس کو جسے خَلَقْتُ : میں نے پیدا کیا بِيَدَيَّ ۭ : اپنے ہاتھوں سے اَسْتَكْبَرْتَ : کیا تو نے تکبر کیا اَمْ كُنْتَ : یا تو ہے مِنَ : سے الْعَالِيْنَ : بلند درجہ والے
پوچھا، اے ابلیس اس چیز کو سجدہ کرنے سے تجھے کیا چیز مانع ہوئی جو میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کی ؟ یہ تو نے تکبر کیا یا تو کوئی برتر ہستی ہے !
قال یا بلیس مامنعک ان تسجدبما خلقت بیدی استکبرت ام کنت من العالین (75) انسان قدرت کا ایک شاہکار ہے ابلیس کے سجدہ نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ نے اس سے بانداز عتاب سوال فرمایا کہ جس چیز کو میں نے خاص اپنے اتھ سے پیدا کیا آخر اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کیا چیز مانع ہوئی، کیا یہ محض تیرا غرور ہے یا تو کوئی برتر مخلوق ہے ! خلقت بیدی سے اس خاص اہتمام کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے لئے فرمایا۔ انسان اپنی صالحیتوں کے اعتبار سے قدرت کا ایک شاہکار ہے۔ اگر یہ اپنی صلاحیتیں صحیح طور پر استعمال کرے تو جنوں کو مسخر کرلینا تو معمولی بات ہے، یہ فرشتوں سے بھی بازی لے جاتا ہے۔ تمام جہان اس کے لئے مسخر ہے لیکن وہ اپنے رب کے سوا کسی کا بھی محکوم نہیں بنایا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ اس اہتمام و عنایت کے ساتھ پیدا کی ہوئی مخلوق کو جب کہ خود خدا نے اس کے سجدہ کا حکم دیا آخر کس بنیاد پر تو نے سجدہ کرنے سے انکار کیا ؟ اعتبار تو صفات و صلاحیتوں کا ہے نہ کہ مٹی اور آگ کا، اگر قدرت کے دست تصرف نے مٹی کے ایک لوندے ہی سے اپنا ایک شاہکار تیار کردیا تو کی اس بنیاد پر اس کے حسن و کمال کا انکار کیا آئے گا کہ وہ مٹی سے تیار ہوا ہے ! فرمایا کہ تیری یہ حرکت محض اندھے بہرے غرور کا نتیجہ یا تو اپنے زعم میں کوئی برتر ہستی ہے !
Top