Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 22

  1. اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿22﴾

    1. اَفَمَنْکیا۔ پس ۔ جس
    2. شَرَحَ اللّٰهُاللہ نے کھول دیا
    3. صَدْرَهٗاس کا سینہ
    4. لِلْاِسْلَامِاسلام کے لیے
    5. فَهُوَتو وہ
    6. عَلٰيپر
    7. نُوْرٍنور
    8. مِّنْ رَّبِّهٖ ۭاپنے رب کی طرف سے
    9. فَوَيْلٌسو خرابی
    10. لِّلْقٰسِيَةِان کے لیے ۔ سخت
    11. قُلُوْبُهُمْان کے دل
    12. مِّنْسے
    13. ذِكْرِ اللّٰهِ ۭاللہ کی یاد
    14. اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    15. فِيْمیں
    16. ضَلٰلٍگمراہی
    17. مُّبِيْنٍکھلی
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا وہ جن کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے پس وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہیں (اور وہ جن کے دل سخت ہوچکے ہیں یکساں ہوں گے ؟) تو ہلاکی ہے ان کے لئے جن کے دل اللہ کی یاد دہانی قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہوچکے ہیں ! یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 22) فیض و است پہنچتا یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی ہے کہ فیض ہمیشہ بقدر استعداد و صلاحیت پہنچتا یہ۔ اللہ تعالیٰ کا ابر کرم یوں تو ہر خشک و تر پر برستا ہے لیکن ہر زمین اس سے یکساں مستقید نہیں ہوتی جس زمین میں صاحلیت ہوتی ہے وہ تو اس سے لہلہا اٹھتی ہے لیکن جو بنجر ہوتی ہے وہ یوں ہی ویران پر ملسی رہ جاتی ہے۔ اسی طرح قرآن کی صورت میں جو بارش ہوئی ہے اس کا فیض بھی ہر شخص کو یکساں نہیں پہنچے گا بلکہ جنہوں نے اپنی فطری صلاحیتیں زندہ رکھی ہیں اللہ اس کے ذریعے سے ان کے سینے اسلام کے لئے کھول دے گا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنی فطری صلاحیتیں ضائع کر کے اپنے دل پتھر بنا لئے ہیں وہ اس کے فیض سے محروم ہی رہیں گے اور ایسے سنگدلوں کے لئے، جو اللہ کی تذکیر کے بعد بھی پتھر بنے رہ گئے، صرف ہلاکی ہے۔ ایسے لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں اس لئے کہ انہوں نے رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ پورے دن کی روشنی میں خدا کی رہنمائی کے باوجود اپنی راہ کھوئی ہے۔ اس سوالیہ جملہ میں بھی خبر محذوف ہے جس کو ترجمہ میں ہم نے کھول دیا۔ من ذکر اللہ یہاں من تذکر اللہ ایاھم کے مفہوم میں ہے یعنی جن کے دل خدا کی طرف سے یاد دہانی کے باوجود پتھر بنے رہے۔