Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 4

  1. لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴿4﴾

    1. لَوْاگر
    2. اَرَادَ اللّٰهُچاہتا اللہ
    3. اَنْ يَّتَّخِذَکہ بنائے
    4. وَلَدًااولاد
    5. لَّاصْطَفٰىالبتہ وہ چن لیتا
    6. مِمَّااس سے جو
    7. يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۙوہ پیدا کرتا ہے (مخلوق) جسے وہ چاہتا ہے
    8. سُبْحٰنَهٗ ۭوہ پاک ہے
    9. هُوَ اللّٰهُوہی اللہ
    10. الْوَاحِدُواحد (یکتا)
    11. الْقَهَّارُزبردست
Translation · Tadabbur-e-Quran
اگر اللہ اولاد ہی بناین کا ارادہ کرتا تو وہ چھانٹ لیتا ان چیزوں میں سے جو وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا۔ وہ پاک او ارفع ہے۔ وہ اللہ واحد ہے سب پر قابو رکھنے والا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لواراد اللہ ان یتخذ ولد الاصطفی مما یخلق ما یشآء سبحنہ ھو اللہ الی حد القھار (4) مشرکین کے عقیدے پر تعریض یہ مشرکین عرب کے عقیدے پر تعریض ہے کہ انہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مان کر ان کو معبود بنا رکھا ہے اور ان کو خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کم عقلوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ اگر خدا اپنے لئے اولاد ہی بنانے کا ارادہ کرتا تو وہ بیٹیاں کیوں بناتا، وہ اپنی مخلوقات میں سے جس بہتر سے بہتر چیز کو چاہتا اپنے لئے منتخب کرنا ! سبحنہ وہ ایسی نسبتوں اور ایسی ضرورتوں سے ارفع منزہ اور بالکل پاک ہے۔ اس کو کسی بیٹے بیٹی یا کسی شریک و مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بالکل یکہ و تنہا اور اپنی پوری کائنات کو اپنے قابو میں رکھنے والا ہے۔