Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 68

  1. وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ﴿68﴾

    1. وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِاور پھونک ماری جائے گی صور میں
    2. فَصَعِقَتو بیہوش ہوجائے گا
    3. مَنْجو
    4. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    5. وَمَنْاور جو
    6. فِي الْاَرْضِزمین میں
    7. اِلَّاسوائے
    8. مَنْجسے
    9. شَآءَ اللّٰهُ ۭچاہے اللہ
    10. ثُمَّپھر
    11. نُفِخَ فِيْهِپھونک ماری جائے گی اس میں
    12. اُخْرٰىدوبارہ
    13. فَاِذَاتو فورا
    14. هُمْوہ
    15. قِيَامٌکھڑے
    16. يَّنْظُرُوْنَدیکھنے لگیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور صور پھونکا جائے تو آسمان اور زمین میں جو بھی ہیں سب بےہوش کے گر پڑیں گے مگر جن کو اللہ چاہے پھر دوبارہ اس میں پھونکا جائے گا تو دفعتاً وہ کھڑے ہو کر تاکنے لگیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 68 قیامت کے دن کی بےبسی یہ اسی مضمون کی مزید توسیع ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں سے متعلق یہ فرض کئے ہوئے بیٹھے ہیں کہ ان کو اللہ کے ہاں بڑا تقرب حاصل ہے، وہ اپنے پجاریوں کے لئے یہ کریں گے اور خدا نے ان پر ہاتھ ڈالا تو اپنے زور و اثر سے ان کو چھڑا لیں گے حالانکہ قیامت کے دن ساری خدائی کا یہ حال ہوگا کہ جب پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے۔ صرف وہی لوگ اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھنا چاہے گا پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور وہ حیرت سے تاکتے ہوں گے … مطلب یہ ہے کہ جس دن کی ہولناکی کا یہ عالم ہے اس دن کس کی مجال ہے کہ خدا کے آگے ناز و تدلل کے ساتھ بڑھ کر کسی کی وکالت یا سفارش کرسکے اور جس خدا کی عظمت کا یہ حال ہے کہ اس کے ایک نفخہ صور سے ساری خدائی بےہوش اور پھر ساری خدائی بیدار ہوگی، کون ہے جو اس کا ہم سربننے کا مدعی ہو سکے ! الا من شآء اللہ کے استثناء سے یہ بات نکلتی ہے کہ کچھ لوگ اس دن اس عام بےہوشی سے محفوظ رہیں گے۔ یہ کون لوگ ہوں گے ؟ اس کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ البتہ آگے کی آیت 75 سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جو ملائکہ عرش الٰہی کے اردگرد اس کی حمد و تسبیح میں مصروف ہوں گے وہ اس سے محفوظ رہیں گے۔ یہ محض ایک اشارہ ہے اس پر مجھے جزم نہیں یہ۔ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اس اشارے کے بعض قرائن کی طرف توجہ دلائوں گا۔