Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 170

  1. یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا﴿170﴾

    1. يٰٓاَيُّھَااے
    2. النَّاسُلوگ
    3. قَدْ جَآءَكُمُتمہارے پاس آیا
    4. الرَّسُوْلُرسول
    5. بِالْحَقِّحق کے ساتھ
    6. مِنْسے
    7. رَّبِّكُمْتمہارا رب
    8. فَاٰمِنُوْاسو ایمان لاؤ
    9. خَيْرًابہتر
    10. لَّكُمْتمہارے لیے
    11. وَاِنْاور اگر
    12. تَكْفُرُوْاتم نہ مانو گے
    13. فَاِنَّتو بیشک
    14. لِلّٰهِاللہ کے لیے
    15. مَاجو
    16. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    17. وَالْاَرْضِاور زمین
    18. وَكَانَاور ہے
    19. اللّٰهُاللہ
    20. عَلِيْمًاجاننے والا
    21. حَكِيْمًاحکمت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے لوگو، رسول تمہارے پاس تمہارے رب کے پاس سے حق لے کر آگیا ہے پس ایمان لاؤ، اسی میں تمہاری بہتری ہے اور اگر کفر پر جمے رہو گے تو یاد رکھو کہ اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَيْرًا لَّكُمْ ۭ وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۔ ایک عام تنبیہ جس میں روئے سخن عیسائیوں کی طرف ہے : خطاب اگرچہ عام ہے لیکن آگے والی آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ روئے سخن اہل کتاب بالخصوص نصاری کی طرف ہے۔ فرمایا کہ اے لوگو، اللہ کا رسول تمہارے پاس حق لے کر آگیا ہے۔ اللہ کے دین میں تم نے جو ملاوٹیں کردی تھیں اور جن کے سبب سے یہ معلوم کرنا ناممکن ہوگیا تھا کہ حق کیا ہے، اب ان تمام ملاوٹوں سے پاک ہو کر دین ازسرنو اپنی کامل شکل میں تمہارے پاس آگیا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ، اس میں تمہاری ہی بہتری ہے۔ اگر تم اس کا انکار کروگے تو یاد رکھو کہ خدا کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ تمہارا ہی بگڑے گا۔ خدا تو سب سے بےنیاز ہے۔ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ سب اس کے قابو میں ہیں اور وہ ہر ایک کے اعمال سے واقف ہے، وہ ہر نفس کو اس کے اعمال کی جزا دے گا۔ اگر یہ چیز آج ٹل رہی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جزا ہے ہی نہیں۔ بلکہ یہ اس کی حکمت کے تحت ٹل رہی ہے۔ خدا حکیم بھی ہے۔