Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 76

Tafseer
  1. اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ع﴿76﴾

    1. اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے (ایمان والے)
    2. يُقَاتِلُوْنَوہ لڑتے ہیں
    3. فِيْمیں
    4. سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کا راستہ
    5. وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْاوہ لوگ جنہوں نے کفر کیا (کافر)
    6. يُقَاتِلُوْنَوہ لڑتے ہیں
    7. فِيْمیں
    8. سَبِيْلِراستہ
    9. الطَّاغُوْتِطاغوت (سرکش)
    10. فَقَاتِلُوْٓاسو تم لڑو
    11. اَوْلِيَآءَدوست (ساتھی)
    12. الشَّيْطٰنِشیطان
    13. اِنَّبیشک
    14. كَيْدَفریب
    15. الشَّيْطٰنِشیطان
    16. كَانَہے
    17. ضَعِيْفًاکمزور (بودا)
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جنہوں نے کفر کیا وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں تو تم شیطان کے حامیوں سے لڑو، شیطان کی چال تو بالکل بودی ہوتی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِيَاۗءَ الشَّيْطٰنِ ۚ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا۔ طاغوت کے لفظ پر بحث بقرہ اور آل عمران دونوں کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں قرآن نے فقاتلوا اولیاء الشیطان کہہ کر خود واضح فرمادیا کہ طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ یہ آیت اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کی جنگ خدا کی راہ میں ہوتی ہے اور خدا ان کے سر پر ہوتا ہے۔ برعکس اس کے اہل کفر کی جنگ شیطان کی راہ میں ہوتی اور شیطان ان کے سر پر ہوتا ہے۔ گویا مقابلہ اصلاً رحمان اور شیطان کے درمیان ہوتا ہے۔ چونکہ خدا نے شیطان کو بھی ایک محدود دائرے کے اندر مہلت دی ہے اس وجہ سے وہ اپنے حامیوں کو کچھ چالیں بتاتا اور سکھاتا ہے لیکن اخرت خدا کے کید متین کا مقابلہ اور اس کے اولیا کیا کرسکتے ہیں ؟ اس وجہ سے اہل ایمان کو ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ اگر انہوں نے خدا کی وفاداری میں کوئی کمزور نہیں دکھائی تو بہرحال کامیابی انہی کی ہے۔ شیطان کی چالوں میں کمزور کے جو فطری اسباب مضمر ہیں ان پر گفتگو کے لیے موزوں مقام دوسرا ہے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ کسی کام کی کوئی مضبوط بنیاد اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک وہ بنیاد حق پر نہ ہو۔ شیطان کے ہر کام کی بنیاد چونکہ باطل پر ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے مستحکم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔