تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 1
حٰمٓۚ﴿1﴾
- حٰمٓحا۔ میم
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ حٰمٓ ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
حم۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم۔ غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول ط لا الہ الا ھو ط الیہ المصیر (1۔ 3)
تمام حوا میم نام کی طرح مزاج میں بھی بالکل یکساں ہیں
حٰمٓ اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ حروف مقطعات پر مفصل بحث سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ بس اتنی بات یہاں یاد رکھئے کہ یہ سورة اور اس کے بعد کی تمام مکی سورتیں، جو اس گروپ میں شامل ہیں، سب اسی نام سے موسوم بھی ہیں اور سب کا مزاج بھی بالکل یکساں ہے۔
مخالفین پر امتنان اور ان کو تنبیہ
تنزیل الکتب … الآیۃ، یہ قرآن کے مخالفین پر امتنان بھی ہے اور ان کو تنبیہ بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب نہایت اہتمام سے جو اتاری ہے تو اس لئے اتاری ہے کہ لوگ اس کی قدر کریں، اس سے ہدایت حاصل کریں اور اپنے رب کے اس اہتمام کے شکر گزار ہوں جو ان کی ہدایت کے لئے اس نے کیا ورنہ یاد رکھیں کہ جس نے یہ کتاب اتاری ہے وہ ’ عزیز“ بھی ہے اور علیم بھی۔ ’ عزیز ‘ ہے اس وجہ سے وہ ہر چیز پر قدرت و اختیار رکھتا ہے۔ وہ مخالفت کرنے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں، ہر سزا دے سکتا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں بن سکتا۔ ’ عزیز ‘ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علیم بھی ہے اس وجہ سے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کتاب کی تنزیل سے جو کشمکش برپا ہوئی ہے وہ کس مرحلہ میں ہے، اس کے پیش کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے اور اس کی مخالفت کرنے میں جو لوگ پیش پیش ہیں ان کے ارادے کیا ہیں، وہ کہاں تک پہنچ چکے ہیں اور کب ان کا ہاتھ پکڑا جانا ضروری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں ہے بلکہ خدائے عزیز وعلیم کا اتارا ہوا صحیفہ ٔ ہدایت ہے اس وجہ سے اس کی موافقت بھی بڑی اہمیت رکھنے والی بات ہے اور اس کی مخالفت کے نتائج بھی نہایت سنگین اور دور رس ہیں۔
’ غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول۔ الآیۃ ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مزید صفات بیان فرمائیں کہ وہ گناہوں کو بخشنے والا اور توبہ کو قبول کرنے والا بھی ہے اور سخت پاداش والا اور بڑی قدرت والا بھی۔ ’ طول ‘ کے معنی فضل، غنی، قدرت اور بخشش کے ہیں۔ یہاں تقابل کے اصول کو پیش نظر رھ کر میں نے قدرت کے معنی کو ترجیح دی ہے۔
فیصلہ کن مرحلہ
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں قسم کی صفات سے متصف اور دونوں طرح کے اختیارات کا مالک ہے تو اس کتاب کی تنزیل کے بعد ہر شخص کے لئے راہ کھلی ہوئی ہے کہ وہ یا تو اس کو قبول کر کے خدا کی رحمت و مغفرت کا امیدوار بن جائے یا اس کی مخالفت کر کے اس کے عذاب اور اس کی قدرت کی شان کے ظہور کا انتظار کرے۔
لا الہ الا ھو ط الیہ البصیر۔ یعنی اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہو کہ خدا کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے تو وہ اپنی اس غلط فہمی کی اصلاح کرے۔ خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے۔ قیامت کے دن سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے اور سب کے معاملات کا فیصلہ وہی فرمائے گا، نہ کسی اور کی طرف لوٹنا ہوگا نہ کوئی اور خدا کے اذن کے بغیر کسی کے لئے سفارش کرسکے گا۔