Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 78

  1. وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ع﴿78﴾

    1. وَلَقَدْاور تحقیق
    2. اَرْسَلْنَاہم نے بھیجے
    3. رُسُلًابہت سے رسول
    4. مِّنْ قَبْلِكَآپ سے پہلے
    5. مِنْهُمْان میں سے
    6. مَّنْجن کا
    7. قَصَصْنَاہم نے حال بیان کیا
    8. عَلَيْكَآپ سے
    9. وَمِنْهُمْاور ان میں سے
    10. مَّنْجن کا
    11. لَّمْنہیں
    12. نَقْصُصْہم نے حال بیان کیا
    13. عَلَيْكَ ۭآپ سے
    14. وَمَا كَانَاور نہ تھا
    15. لِرَسُوْلٍکسی رسول کے لئے
    16. اَنْ يَّاْتِيَکہ وہ لائے
    17. بِاٰيَةٍکوئی نشانی
    18. اِلَّامگر، بغیر
    19. بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚاللہ کے حکم سے
    20. فَاِذَاسو جب
    21. جَآءَآگیا
    22. اَمْرُ اللّٰهِاللہ کا حکم
    23. قُضِيَفیصلہ کردیا گیا
    24. بِالْحَقِّانصاف کے ساتھ
    25. وَخَسِرَاور گھاٹے میں رہ گئے
    26. هُنَالِكَاس وقت
    27. الْمُبْطِلُوْنَغلط کار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے جن میں سے کچھ کے حالات تم کو سنا دیئے اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کے حالات تم کو نہیں سنائے اور کسی رسول کا بھی یہ مقدور نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی اللہ کے اذن کے بدون لا سکے۔ پس جب اللہ کا حکم آجائے گا، عدل کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت اہل باطل خسارے میں پڑیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تسلی کا ایک خاص پہلو یہ وہی تسلی کا مضمون ایک خاص پہلو سے واضح فرمایا جا رہا ہے۔ رسولوں کے مکذبین کی یہ عام روش رہی ہے کہ جب ان کو رسول نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو قوم نے رسول کو زچ کرنے کے لئے اس عذاب کا کوئی نمونہ دکھانے کا مطالبہ کیا۔ اس مطالبہ کا ایک جواب اوپر والی آیت میں دیا گیا اب اسی کا ایک اور پہلو واضح فرمایا گیا ہے کہ رسولوں کی تاریخ شاہد ہے کہ اس طرح کی نشانیاں دکھانے کا معاملہ رسول کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق تمام تر اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ہے۔ اگر اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے تو وہ عذاب بھیجتا ہے۔ اور اگر نہیں ہوتا تو نہیں بھیجتا۔ اس چیز کا مطالبہ لوگوں کو نہ رسول سے کرنا چاہئے اور نہ رسول کو لوگوں کے اس مطالبہ سے پریشان ہونا چاہئے۔ البتہ یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ جب اللہ کا حکم عذاب کے لئے صادر ہوجاتا ہے تو ٹھیک ٹھیک انصاف کے مطابق فیصلہ کردیا جاتا ہے اور اس وقت شامت انہی لوگوں کی آتی ہے جو حق کو جھٹلاتے اور رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں۔