Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 43

  1. مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ﴿43﴾

    1. مَا يُقَالُنہیں کہاجاتا
    2. لَكَآپ کو
    3. اِلَّاسوائے
    4. مَاجو
    5. قَدْ قِيْلَکہا جاچکا ہے
    6. لِلرُّسُلِرسولوں کو
    7. مِنْ قَبْلِكَ ۭآپ سے قبل
    8. اِنَّبیشک
    9. رَبَّكَآپ کا رب
    10. لَذُوْ مَغْفِرَةٍبڑی مغفرت والا
    11. وَّذُوْ عِقَابٍاور سزا دینے والا
    12. اَلِيْمٍدردناک
Translation · Tadabbur-e-Quran
تمہیں وہی باتیں کہی جا رہی ہیں جو تم سے پہلے آنے والے رسولوں کو کہی جا چکی ہیں۔ بیشک تمہارا رب بڑی مغفرت والا بھی ہے اور درد ناک عذاب دینے والا بھی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
درشتی و نرمی بہم در براست یقال لک الا ماقد قیل للرسل من قبلک، ان ربک لذو مغفرۃ و ذوعقاب الیم (43) آنحضرت صلعم کو تسلی یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ یہ نہ گمان کرو کہ یہ خاص تمہاری ہی قوم نے تمہارے ہی ساتھ یہ رویہ اختیار کیا ہے بلکہ جس طرح کی باتیں تمہیں کہی جا رہی ہیں اسی طرح کی باتیں دوسری امتوں کے اشرار اپنے اپنے رسولوں کو کہہ چکے ہیں۔ رسولوں اور ان کی قوموں کی یہ ایک مشترک روایت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تمہاری کسی خامی کا نتیجہ نہیں ہے کہ قوم کے اشرار تمہارے دشمن بن گئے ہیں بلکہ ہمیشہ سے رسولوں کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے تو جس طرح دوسرے اولوالعزم رسولوں نے اپنی قوموں کے ایذا رسانیوں کا صبر کے ساتھ مقابلہ کیا اسی طرح تم بھی صبر کرو۔ ان ربک لذو مغفرۃ وذوعقاب الیم یعنی یہ اطمینان رکھو کہ خدا کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔ اگر اللہ ان لوگوں کی تمام تعدیوں کے باوجود ان کو ڈھیل دے رہا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس کے ہاں جزا اور سزا کا کوئی قانون ہی نہیں ہے۔ وہ بڑی مغفرت فرمانے والا بھی ہے اور بڑا درد ناک عذاب دینے والا بھی۔ وہ آخری حد تک ڈھیل دیتا ہے تاکہ جو اس کی مغفرت کا سزا وار بننا چاہیں وہ سزا وار بن جائیں لیکن جب اس مہلت سے لوگ فائدہ نہیں اٹھاتے یا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں تو ان کو سزا بھی ایسی درد ناک دیتا ہے کہ اس طرح کی درد ناک سزا کوئی اور نہیں دے سکتا۔