Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 16

  1. وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ﴿16﴾

    1. وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَاور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں
    2. فِي اللّٰهِاللہ کے بارے میں
    3. مِنْۢ بَعْدِبھلا اس کے
    4. مَا اسْتُجِيْبَجو لبیک کہہ دی گئی
    5. لَهٗاس کے لیے
    6. حُجَّتُهُمْان کی حجت بازی
    7. دَاحِضَةٌزائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے
    8. عِنْدَ رَبِّهِمْان کے رب کے نزدیک
    9. وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌاور ان پر غضب ہے
    10. وَّلَهُمْ عَذَابٌاور ان کے لیے عذاب ہے
    11. شَدِيْدٌسخت
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو لوگ اللہ کے باب میں حجت کر رہے ہیں بعد اس کے کہ اس کو مانا جا چکا ہے، ان کی حجت ان کے رب کے آگے بالکل پسپا ہے اور ان پر غضب اور ان کے لئے عذاب شدید ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
والذین یعآجون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ حجتھم دا حضۃ عند ربھم وعلیکم غضب ولھم عذاب شدید (16) ’ محاجۃ کے معنی مجادلہ اور کٹ حجتی کرنے کے ہیں اور فی اللہ میں مضاف محدوف ہے یعنی فی توحید اللہ، اس لئے کہ جھگڑا جن سے بھی تھا اللہ کے باب میں نہیں بلکہ اس کی توحید ہی کے باب میں تھا۔ اہل کتاب تو درکنار مشرکین عرب بھی خدا کے منکر نہیں تھے۔ لیکن خدا کو شرک کے ساتھ ماننا دین میں معتبر نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ اس کی توحید کے ساتھ اس پر ایمان لایا جائے گا اگر کوئی توحید کے معاملہ میں جھگڑتا ہے تو وہ گویا خدا ہی کے باب میں جھگڑتا ہے اور اسی کی نفی کر رہا ہے۔ من بعد ما استجیب لہ کا مفہوم کم و بیش وہی ہے جو من بعد ما جآء ھم العلم کا ہے یعنی یہ جھگڑا خدا کو ماننے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب حضرت نوح ؑ سے لے کر حضرت مسیح ؑ تک تمام نبیوں کی تعلیم ایک ہی رہی ہے۔ سب نے توحید ہی کی دعوت دی ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ قریش، یہود اور نصاریٰ سب کے اصل اسلاف اللہ تعالیٰ کی توحید کو مان چکے ہی۔ اب اس ماننے کے بعد اگر خدا کی وتحید میں ان امتوں کی طر سے یہ جھگڑے اٹھائے جا رہے ہیں تو یہ حجت نہیں بلکہ کٹ حجتی ہے اور یہ کٹ حجتی خدا کے آگے کام آنے والی نہیں بلکہ یہ پسپا ہو کر رہے گی۔