تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 18
یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ﴿18﴾
- يَسْتَعْجِلُجلدی مانگتے ہیں
- بِهَا الَّذِيْنَاس کو وہ لوگ
- لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَاجو ایمان نہیں لاتے اس پر
- وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْااور وہ لوگ جو ایمان لائے
- مُشْفِقُوْنَ مِنْهَاڈرنے والے ہیں اس سے
- وَيَعْلَمُوْنَاور وہ علم رکھتے ہیں
- اَنَّهَاکہ بیشک وہ
- الْحَقُّحق ہے
- اَلَآخبردار
- اِنَّ الَّذِيْنَبیشک وہ لوگ
- يُمَارُوْنَجو بحثین کرتے ہیں۔ جھگڑتے ہیں
- فِي السَّاعَةِقیامت کے بارے میں
- لَفِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍالبتہ کھلی گمراہی میں ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس کے لئے جلدی وہ لوگ مچائے ہوئے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ترساں ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ شدنی ہے۔ آگاہ کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں وہ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یستعجل بھا الذین لامنون بھا ج والذین امنوا مشفقون منھا لا یعلمون انھا الحق ط الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید (18)
یعنی یہ لوگ قیامت کو محض ایک خیالی ڈراوا سمجھتے ہیں اس وجہ سے ان کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے بلکہ ڈھیٹ ہو کر یہ کہتے ہیں کہ اگر اس کو آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتی ؟ فرمایا کہ جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک وہ محض ایک مذاق ہے۔ مگر جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کی ہولناکی کو سمجھتے اور اس سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید یہ ان لوگوں کی محرومی پر اظہار حسرت ہے جو قیامت جیسی واضح حقیقت کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ بہت دور کی گمرایہ میں جا پڑے ہیں ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جب ان کے کھلنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ ہر ایک کے سامنے اس کا انجام موجود ہوگا جس سے کسی کے لئے بھی مفر نہیں ہو اگ۔