تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 11
وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ﴿11﴾
- وَالَّذِيْ نَزَّلَاور وہی ذات ہے جس نے نازل کیا
- مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
- مَآءًۢپانی
- بِقَدَرٍساتھ اندازے کے
- فَاَنْشَرْنَا بِهٖپھر زندہ کیا ہم نے ساتھ اس کے
- بَلْدَةً مَّيْتًامردہ زمین کو
- كَذٰلِكَاسی طرح
- تُخْرَجُوْنَتم نکالو جاؤ گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جس نے آسمان سے پانی اتارا ایک اندازہ کے ساتھ۔ پس ہم نے اس سے حیات تازہ بخش دی ایک مردہ زمین کو۔ اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جائو گے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
والذی نزل من السمآء مآء بقدر فانشرنا بہ بلدۃ میتاً کذلک تخرجون 11
اللہ تعالیٰ کا کرشمہ ربوبیت
اور اسی خدائے عزیز وعلیم کا یہ کرشمہ ربوبیت بھی ہے کہ اس نے آسمان سے پانی اتارا ایک خاص اندازے کے ساتھ پانی کا ایک خاص اندازے کے ساتھ اترنا اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ یہ محض ابرو ہوا کے تصرف سے نہیں بلکہ ایک عزیز وعلیم کی تقدیر سے اترتا ہے جو اپنی حکمت کے تحت صرف اتنا ہی پانی اتارتا ہے جس کا زمین تحمل کرسکتی ہے۔ پھر اس سے یہ بات بھی نکلی کہ آسمان و زمین دونوں کے اندر ایک ہی خدائے عزیز وعلیم کا ارادہ کار فرما ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ آسمان اور زمین میں ایسا تو افق ہوتا کہ آسمان سے پانی اترتا اور زمین اس سے اپنی صلاحیتیں اجاگر کرتی۔ مزید برآں اس سے یہ بات بھی نکلی کہ وہ عزیز وعلیم ہستی نہایت کریم و بندہ پرور ہے کہ ایک خاص اندازے کے ساتھ ہی پانی اتارتی ہے۔ اسی اندازے کے ساتھ زمین کی تمام برکتیں وابستہ ہیں۔ اگر اس میں کوئی خلل واقع ہوجائے تو یہ زمین پانی کی کمی سے بھی تباہ ہو سکتی ہے اور اسکی زیادتی سے بھی۔
بارش کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ
فانشرنا بہ بلدۃ میتا کذلک تخرجون یہ بارش کے ایک اور خاص پہلو کی طرف توجہ دلائی اور یہ پہلو چونکہ اس کائنات کی ایک بہت بڑی حقیقت کو آشکارا کرنے والا ہے اس وجہ سے اس کا ذکر متکلم کے صیغے سے فرمایا جو اہتمام خاص پر دلیل ہے۔ فرمایا کہ دیکھتے ہو کہ اسی پانی سے ہم ایک مردہ اور بےآب وگیاہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور وہ لہلہا اٹھتی ہے۔ اسی طرح ایک دن تم بھی مرنے اور گل سڑ جانے کے بعد اس زمین سے اٹھا کھڑے کئے جائو گے۔