تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 9
وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ﴿9﴾
- وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْاور البتہ اگر تم پوچھو ان سے
- مَّنْکس نے
- خَلَقَ السَّمٰوٰتِپیدا کیا آسمانوں کو
- وَالْاَرْضَاور زمین کو
- لَيَقُوْلُنَّالبتہ وہ ضرور کہیں گے
- خَلَقَهُنَّپیدا کیا ان کو
- الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُزبردست۔ غالب، علم والے نے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ لازماً یہی جواب دیں گے کہ ان کو خدائے عزیز وعلیم نے پیدا کیا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مشرکین کے تضاد فکر کی وضاحت
ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیفولن خلقھن العزیز العلیم 9
یہ قریش کے کفر و شرک اور ان کی اس ضد و مکایرت کی تفصیل بیان ہو رہی ہے جس کا ذکر اوپر آیت 5 میں ان کنتم قوما مسرفین کے الفاظ سے گزر چکا ہے۔ یہ بیان آگے دور تک جائے گا فرمایا کہ یہ یوں تو اپنے دین شرک کی حمایت میں تم سے لڑنے کے لئے آستینیں چڑھائے ہوئے ہیں لیکن یہ ایک شدید قسم کے تضاد فکر میں مبتلا ہیں جس کی طرف ان کا جوش مخالفت ان کو متوجہ ہونے نہیں دے رہا ہے۔ اگر تم ان سے سوال کرو کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے تو اس کا جواب لازماً وہ یہی دیں گے کہ ان کا خالق خدائے عزیز وعلیم ہے لیکن دوسری طرف ان کی مفاہمت کا یہ عالم ہے کہ وجعلوالہ من عابدہ جزء اً (اور انہوں نے اللہ کی بندوں میں سے اس کے شریک اور کفو و ہمسر بنا رکھے ہیں) یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین عرب جیسا کہ پچھلی سورتوں میں تفصیل گزر چکی ہے۔ آسمان و زمین اور دوسری تمام مخلوقات کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے لیکن دوسری طرف وہ یہ بھی مانتے تھے کہ ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں جو اس کی چہیتی اور اس کی ذات وصفات میں شریک ہیں اس وجہ سے ان کی عبادت خدا کے تقریب کا ذریعہ اور مال و اولاد کی فراوانی کا وسیلہ ہے۔