تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 16
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ﴿16﴾
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- الَّذِيْنَوہ جو کہ
- نَتَقَبَّلُہم قبول کرتے ہیں
- عَنْهُمْان سے
- اَحْسَنَبہترین (عمل)
- مَاجو
- عَمِلُوْاانہوں نے کئے
- وَنَتَجَاوَزُاور ہم درگزر کرتے ہیں
- عَنْ سَيِّاٰتِهِمْان کی بُرائیوں سے
- فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ ۭاہل جنت میں
- وَعْدَ الصِّدْقِسچا وعدہ
- الَّذِيْوہ جو
- كَانُوْا يُوْعَدُوْنَانہیں وعدہ دیا جاتا تھا
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال کو ہم قبول کریں گے اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے جنت والوں کے ساتھ یہ سوچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا رہا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اولئک الذین نتقبل عنھم احسن ماعملوا و نتجاوزعن سیاتھم فی اصحب الجنۃ ط وعد الصدق الذی کانوا یوعدون 16
فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال کو ہم قبول اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے۔
فی اصحب الجنۃ حال کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ان کے ساتھ وہ معاملہ ہوگا جو جنت کے مستحقین کے ساتھ ہوگا۔ یہ انہی کے زمرے میں شمار ہوں گے۔
وعد الصدق مصدر مئوکد ہے یعنی ان کے لئے اللہ تعالیٰ کا یہ سچا اور پکا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔
چالیس اسل کی عمر کو پہنچنے والوں کو تنبیہ
یہ آیت، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، جوانوں، خاص طور پر چالیس سال کی عمر کو پہنچے ہوئے لوگوں کو تشویش و ترغیب بلکہ ایک قسم کی تنبیہ ہے کہ اب ان کے لئے بیدار ہونے کا آخری وقت آگیا ہے۔ اگر اب بھی انہوں نے آنکھیں نہ کھولیں تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رعایت سے اپنے کو محروم کرلیں گے۔