Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 33

  1. اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿33﴾

    1. اَوَکیا
    2. لَمْنہیں
    3. يَرَوْادیکھا انہوں نے
    4. اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
    5. الَّذِيْوہ جس نے
    6. خَلَقَپیدا کیا
    7. السَّمٰوٰتِآسمانوں کو
    8. وَالْاَرْضَاور زمین کو
    9. وَلَمْ يَعْيَاور وہ تھکا نہیں
    10. بِخَلْقِهِنَّانکے پیدا کرنے سے
    11. بِقٰدِرٍوہ قادر ہے
    12. عَلٰٓيپر
    13. اَنْ يُّحْيِۦکہ زندہ کرے
    14. الْمَوْتٰى ۭمردے
    15. بَلٰٓيہاں
    16. اِنَّهٗبیشک وہ
    17. عَلٰي كُلِّ شَيْءٍہر شے پر
    18. قَدِيْرٌقدرت رکھنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت ولارض ولم یعنی بخلقھن بقدر علی ان یعی نے الموتی ط بلی انہ علی کل شیء قدیر (33) مکذبین کو انذار یہ سورة کے خاتمہ پر مکذبین کو انذار ہے کہ کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس کام میں اس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی وہ مردوں کو بھی زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرنے پر قادر ہے۔ یہی سوال دوسرے مقامات میں بھی قرآن نے منکرین قیامت کے سامنے رکھا ہے۔ مثلاً فرمایا ہے : افعیینا بالخلق الاول (ق : 15) کیا ہم پہلی بار لوگوں کو پیدا کرنے سے عاجز ہے ؟) بعض جگہ یہ سوال کیا ہے کہ بتائو، آسمان و زمین کو پیدا کردینا زیادہ مشکل ہے یا مردوں کو دوبارہ پیدا کردینا ؟ بلی انہ علی کل شیء قدیر سوال کر کے خود ہی جواب دیا ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے عاجز نہیں رہا وہ نہ صرف مردوں کو زندہ کردینے پر قادر ہے بلکہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم قرآن مجید کے اس اسلوب بیان کی طرف جگہ جگہ اشارہ کرچکے ہیں کہ مخاطب کے لئے جس جواب سے فرار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی بعض اوقات قرآن وہ خود ہی اس کے سامنے رکھ دیتا ہے۔