تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 1
اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ﴿1﴾
- اَلَّذِيْنَجو لوگ
- كَفَرُوْاکافر ہوئے
- وَصَدُّوْااور انہوں نے روکا
- عَنْسے
- سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کا راستہ
- اَضَلَّاکارت کردئیے گئے
- اَعْمَالَهُمْان کے اعمال
Translation · Tadabbur-e-Quran
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا، اللہ نے ان کے تمام اعمال رائیگاں کر دیئے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
1 الفاظ کی تحقیق و آیات کی وضاحت
الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالھم 1
کفار قریش کو وعید
سورة احقاف کفار کے لئے جس تہدید ووعید پر ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے یہ سورة بلا کسی تمہید کے، اس طرح شروع ہوگئی ہے گویا اسی تہدیدو وعید کا یہ عملی ظہور ہے۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکا اللہ نے ان کی تمام کوششیں رائیگاں کردیں۔ یہ اشارہ ظاہر ہے کہ مشرکین مکہ کی طرف ہے۔ اس کتفصیل سوروہ فتح کی آیت 25 کے تحت آئے گی۔ اعمال سے مرادان کی وہ سرگرمیاں ہیں جو انہوں نے اللہ کے بندوق کو ایمان اور عمل صالح کی راہ سے روکنے کے لئے صرف کیں۔ لفظ اضلال یہاں اسی مفہو میں ہے جس مفہوم میں سورة فیل میں لفظ تضلیل استعمال ہوا ہے۔ وہاں فرمایا ہے : الم یجعل کیدھم فی تضلیل (الفیل :2) کیا ان کی ساری چال اللہ نے نابود نہ کردی ؟) یہ مضمون اسی سورة کی آیات 4، 32 اور 33 میں بھی آئے گا۔
یہاں یہ امر خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ یہ وعید اگرچہ ہے تو مستقبل سے متعلق اس لئے کہ اس سورة کے نزول کے وقت قریش ابھی مکہ پر مسلط تھے لیکن اس کا بیان ماضی کے صیغہ سے ہوا ہے اس کی وجہ وہی ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ جو بات اللہ تعالیٰ کے ہاں قطعی طور پر طے ہوگئی اور جس کا ظہور لازمی ہے وہ گویا واقع ہوچکی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو کوئی بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ اس قطعیت کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی وعیدیں قرآن میں ماضی کے صیغوں سے بھی بیان ہوئی ہیں۔ یہ اسلوب ہر زبان میں مصروف ہے اور اس کے فوائد بالکل واضح ہیں۔