تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 21
طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ﴿21﴾
- طَاعَةٌاطاعت
- وَّقَوْلٌاور بات
- مَّعْرُوْفٌ ۣمعقول
- فَاِذَاپھر جب
- عَزَمَ الْاَمْرُ ۣپختہ ہوجائے کام
- فَلَوْ صَدَقُواتو اگر وہ سچے ہوتے
- اللّٰهَاللہ
- لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْالبتہ ہوتا بہتر ان کیلئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کے لئے پسندیدہ روش اطاعت اور قول معروف کی تھی پس جب معاملہ کا ق طعی فیصلہ ہوجاتا تو اگر وہ اللہ سے راست باز ثابت ہوتے تو ان کے لئے یہ بات بہت بہتر ہوتی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
طاعۃ وقول معروف قف فاذا عز مرالامر قف فلوصدقو اللہ لکان خیر الھم 21
ایمان کا صحیح تقاضا
یعنی ان کے لئے صحیح روش تو یہ تھی کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور اس حکم جہاد کا سمعنا واطعنا کے قول معروف سے خیر مقدم کرتے۔ پھر جب جہاد کا فصلہ ہوجاتا تو اپنے عمل سے ثابت کردیتے کہا نہوں نے اپنے رب سے جو عہد باندھا اس میں سچے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو یہ روش ان کے لئے بہتر ہوتی لیکن انہوں نے اپنے لئے ہلاکت کی راہ اتخیار کی۔
طاعۃ وقول معروف مبتداء کے محل میں ہے اور خبر یہاں بر بنائے قرینہ و بتقاضائے بلاغت محذوف ہے۔ ہم جگہ جگہ عربیت کے اس اسلوب کا حوالہ دیتے آ رہے ہیں کہ جب مخاطب کی توجہ پوری طرح مبتداء پر مرکوز کرانی ہو تو خبر کو حذف کردیتے ہیں۔ قول معروف سے مراد سمعنا واطعنا کا کلمہ ہے۔ اللہ و رسول کے معاملے میں یہی کلمہ دسوتر اور اہل ایمان کی روایت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ کے مخلص اور وفادار بندوں نے ہمیشہ اسی کلمہ سے اللہ اور اس کے رسولوں کی ہر بات کا خیر مقدم کیا۔ یہی بات ان کے شایان شان بھی تھی جب کہ انہوں نے ایمان کا دعویٰ کیا تھا لیکن ان کا حال یہ ہوا کہ جہاد کا ذکر سنتے ہی ان پر موت کی غشی طاری ہونے لگی۔
فاذا عزم الامر عزم الامر کے معنی ہیں معاملے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اس کے لئے اقدام کا تہیہ ہوگیا۔
مطلب یہ ہے کہ ان کے شایان شان بات تو یہ تھی کہ جہاد کا ذکر سن کر سمعنا وطاعنا کے معروف قول سے اس کا خیر مقدم کرتے پھر جب اللہ و رسول کی طرف سے اس کا حتمی اور آخری فیصلہ ہوجاتا تو اپنے عمل سے اس قول کی صداقت کا ثبوت دیتے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس سورة کی آیت 4 میں جو حکم دیا گیا ہے اس کی نوعیت حکم جہاد کی نہیں بلکہ جہاد کے لئے تیار رہنے کی ہدایت اور اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ عملی اقدام کی نوبت اس کے بعد آئی۔
فلوصدقوا اللہ لکان خیراً لھم یعنی اب تک تو اللہ کے رسول کے لئے انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس کی نوعیت محض دعوے کی ہے۔ اس دعوے کی صداقت کے امتحان کا مرحلہ تو اب آیا تھا۔ اس مرحلے میں اگر یہ اپنے عمل سے ثابت کردیتے کہ یہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو یہ چیز انکے لئے بہت بڑے خیر کا دروازہ کھولتی لیکن انہوں نے یہ راہ اختیار کرنے کی بجائے اپنے لئے بزدلی کی راہ پسند کی۔