تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 29
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ﴿29﴾
- اَمْ حَسِبَکیا گمان کرتے ہیں
- الَّذِيْنَ(وہ لوگ) جن
- فِيْ قُلُوْبِهِمْان کے دلوں میں
- مَّرَضٌروگ
- اَنْکہ
- لَّنْ يُّخْرِجَہرگز ظاہر نہ کرے گا
- اللّٰهُاللہ
- اَضْغَانَهُمْان کے دل کی عداوتیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے، یہ مگان کر رکھا ہے کہ اللہ ان کے کینوں کو کبھی بےنقاب نہیں کرے گا ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ان لن یخرج اللہ اضغانھم (29)
منافقین کا پردہ اللہ چاک کر کے رہے گا
یہ بھیان کو دھمکی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہ ریشہ دوانیاں جو کہ رہے ہیں تو کیا ان کا گمان ہے کہ ان حرکتوں پر ہمیشہ پردہ ہی پڑا رہے گا، کبھی اللہ ان کو بےنقاب نہیں کرے گا ؟ اگر ان کا گمان یہ ہے تو بالکل غلط ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان کے چہرے کی نقاب الٹ دی جائے تاکہ سب ان کو اچھی طرح پہچان لیں، کسی کو یہ فریب میں مبتلا نہ کرسکیں۔
مرض سے مراد نفاق بھی ہے اور کینہ و حسد بھی جو ان منافقین کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تھا اور جس کے سبب سے وہ ان حرکتوں کا ارتکاب کرتے تھے جن کا ذکر اوپر ہوا۔ نفاق بجائے خود بھی مرض ہے لیکن یہ مرض شدید تر ہوجاتا ہے جب اس کے اوپر حسد اور کینہ کا اضافہ ہوجائے۔ یہاں لفظ اضغان سے اسی حسد اور کینہ کی طرف اشعارہ ہے۔ اضغان جمع ہے صن کی جس کے معنی کینہ کے ہیں۔