Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 43

Tafseer
  1. وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ع﴿43﴾

    1. وَكَيْفَاور کیسے
    2. يُحَكِّمُوْنَكَوہ آپ کو منصف بنائیں گے
    3. وَعِنْدَهُمُجبکہ ان کے پاس
    4. التَّوْرٰىةُتوریت
    5. فِيْهَااس میں
    6. حُكْمُ اللّٰهِاللہ کا حکم
    7. ثُمَّپھر
    8. يَتَوَلَّوْنَپھرجاتے ہیں
    9. مِنْۢ بَعْدِبعد
    10. ذٰلِكَاس
    11. وَمَآاور نہیں
    12. اُولٰٓئِكَوہ لوگ
    13. بِالْمُؤْمِنِيْنَماننے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ تمہیں حکم کس طرح بناتے ہیں جب کہ تورات ان کے پاس موجود ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے، پھر حکم بنانے کے بعد برگشتہ ہوجاتے ہیں ! یہ ہرگز باایمان لوگ نہیں ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
شریعت سے فرار کے لیے یہود کی دہری شرارت : وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَعِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ۔ یہ تعجب کا اظہار اس بات پر نہیں ہے کہ وہ تورات رکھتے ہوئے اپنے معاملات کے فیصلے کے لیے آپ کو حکم کس طرح بناتے ہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ وہ آپ کو حکم بنا کر آپ کے فیصلے سے مکرتے کس طرح ہیں جب کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کے فیصلے شریعت الٰہی کے مطابق ہوتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اول تو احکام، بالخصوص تعزیرات و حدود، بنیادی طور پر تورات و قرآن دونوں میں یکساں ہیں۔ پھر آنحضرت ﷺ کا طریقہ یہ تھا کیہ جن امور میں قرآن کی کوئی واضح ہدایت موجود نہ ہوتی ان میں آپ فیصلہ احکام تورات کے مطابق فرماتے اور ان یہود کو اچھی طرح علم ہوتا کہ آپ کا فیصلہ تورات کے قانون کے مطابق ہے۔ ایسی حالت میں یہ کیسی بےحیائی اور ڈھٹائی کی بات تھی کہ آپ کو حکم بھی بنایا جائے اور آپ کا فیصلہ اس قانون الٰہی کے مطابق بھی ہو جس پر ایمان کا دعوی ہے لیکن پھر اس فیصلہ سے فرار اختیار کرنے کی کوشش کی جائے۔ تفسیر کی کتابوں میں زنا کے ایک مقدمے کا ذکر ہے جس میں آنحضرت ﷺ کا فیصلہ بالکل تورات کے قانون کے مطابق تھا لیکن علمائے یہود نے اس طرح کے معاملات میں امری اور غریب کے لیے چونکہ الگ الگ ضابطے بنا رکھے تھے اس وجہ سے وہ تورات کے اصل قوانین کو چھپاتے تھے۔ چناچہ اس معاملے میں بھی انہوں نے یہی کوشش کی لیکن بالآخر ان کو اصل حقیقت کا اعتراف کرنا پڑا۔ ظاہر ہے کہ یہ روش ہر پہلو سے دعوائے ایمان کے منافی ہے۔ اول تو آپ کی عدالت میں مقدمہ کو لے جانا ہی اس خواہش کے ساتھ تھا کہ تورات کے قانون سے فرار کی شاید کوئی شکل نکل آئے۔ لیکن جب وہاں سے کوئی شکل نہیں نکلی تو یہ جانتے بوجھتے کہ آپ کا فیصلہ بالکل تورات کے حکم کے مطابق ہے اس سے گریز کی کوشش کی۔ فرمایا کہ وما اولئک بالمومنین، یہ لوگ کسی چیز پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔