Bayan-ul-Quran - Al-Maaida : 67
لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ
لَقَدْ : بیشک اَخَذْنَا : ہم نے لیا مِيْثَاقَ : پختہ عہد بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَ : بنی اسرائیل وَاَرْسَلْنَآ : اور ہم نے بھیجے اِلَيْهِمْ : ان کی طرف رُسُلًا : رسول (جمع) كُلَّمَا : جب بھی جَآءَهُمْ : آیا ان کے پاس رَسُوْلٌ : کوئی رسول بِمَا : اس کے ساتھ جو لَا تَهْوٰٓى : نہ چاہتے تھے اَنْفُسُهُمْ : ان کے دل فَرِيْقًا : ایک فریق كَذَّبُوْا : جھٹلایا وَفَرِيْقًا : اور ایک فریق يَّقْتُلُوْنَ : قتل کر ڈالتے
اے رسول جو جو کچھ آپ کے رب کی جانب سے آپ پر نازل کیا گیا ہے آپ (سب) پہنچادیجئیے۔ اور اگر آپ ایسا نہ کریں گے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کا ایک پیغام بھی نہیں پہنچایا (ف 2) ، اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا (ف 3) یقینا اللہ تعالیٰ ان کافروں کو راہ نہ دینگے۔ (67)
2۔ چونکہ مجموعہ کا پہنچانا فرض ہے اس لیے جیسا کل کے اخفاء سے یہ فرض فوت ہوتا ہے اسی طرح کے اخفاء سے بھی یہ فرض فوت ہوجاتا ہے 3۔ چناچہ یہ وعدہ اسی طرح صادق ہوگیا گوبعض غزوات میں آپ زخمی بھی ہوئے اور یہود نے نامردوں کی طرح آپ کو زہر بھی دیا مگر مجمع و مقاتل ہو کر کوئی قتل وہلاک نہ کرسکا اور اس پیشن گوئی کا واقع ہونا آپ کا معجزہ دلیل نبوت ہے اور ترمذی میں ہے کہ پہلے حضور ﷺ کے پاس پہرہ دیا جاتا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ چلے جاو اللہ نے میری حفاظت کی ذمہ لے لی یہ بھی دلیل نبوت ہے کیونکہ ایسا اعتماد بدون وحی کے نہیں ہوسکتا۔
Top