تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 12
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ﴿12﴾
- كَذَّبَتْجھٹلایا
- قَبْلَهُمْان سے قبل
- قَوْمُ نُوْحٍنوح کی قوم
- وَّاَصْحٰبُاور اہلِ
- الرَّسِّرس
- وَثَمُوْدُاور ثمود
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
کذبت قبلھم قوم نوج و اصحب الرس وثمود، وعاد فرعون واخوان لوط، واصحب الایکۃ وقوم تبع کل کذب الرسل فحق وعید (14-12)
قریش کو تہدید
یہ قرش کو تہدید ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون، قوم لوط، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی اسی طرح تکذیب کی جب کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان پر اچھی طرح حق کو واضح کردیا۔ بالآخر اس تکذیب کے جس انجام سے ان کو آگاہ کیا گیا تھا وہ ان کے سامنے ظاہر ہو کر رہا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اگر اس تکذیب پر اڑے رہ گئے تو جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ لازماً آ کے رہے گا اور آسمان و زمین کی کوئی طاقت ان کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت کے بعد لازماً ظہور میں آتی ہے۔ اس کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔
اس تہدید کی طرف اشارہ اوپر آیت 5 میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہاں اس اشارے کے بعد کلام کو رخ دلائل معاد کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ دلائل کے بعد اس اشارے کی وضاحت فرما دی کہ اس جسار کے ساتھ یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں تو اپنی ان پیش رو قوموں کے انجام کو سامنے رکھیں جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔
اصحاب الرس
یہاں جن قوموں کا ذکر آیا ہے ان سب کا حوالہ مختلف پہلوئوں سے پچھل سورتوں میں بھی گزر چکا ہے اور ہم بقدر ضرورت ان کی تاریخی حیثیت کیوضاحت کرچکے ہیں۔ اصحاب الرس کا ذکر سورة فرقان کی آیت 38 میں آیا ہے۔ اس کے تحت ہم ان کے بارے میں مفسرین کے اقوال کے حوالے بھی دے چکے ہیں اور اپنی رائے بھی ظاہر کرچکے ہی۔ اگرچہ قوموں کے ذکر میں ترتیب یہاں تاریخی نہیں ہے لیکن قوم نوح کے بعد معاً اصحاب الرس کا ذکر اس بات کا قرینہ ضرور ہے کہ ان کا تعلق قدیم اقوام بائدہ سے ہے جن میں اکثر کی تاریخ بالکل ناپید ہوچکی ہے۔
کل کذب الرسل کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان کی طرف ایک رسول کی بعثت ہوئی جس کی انہوں نے تکذیب کی اور اس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا جس نے ان کو فنا کردیا۔ تفسیر کی کتابوں میں ایک روایت ہ بھی نقل ہوئی ہے کہ اس قوم نے اپنے رسول کو کفن میں دفن کردیا تھا۔ رس کنوئیں کو کہتے ہیں اس وجہ سے ان کا نام اصحاب الرس ہوا۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ رسولوں میں سے کسی کا اس کی قوم کے ہاتھوں قتل ہونا ثابت نہیں ہے۔ رس کے معنی کنوئیں کے ہوں بھی تو اس کی طرف نسبت کے لئے اس واقعہ کی صحت ضروری نہیں ہے۔
فرعون کے ساتھ اس کی قوم کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اصل مجرم کی حیثیت درحقیقت فرعون ہی کو حاصل تھی۔ اس نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔ سورة طہ میں ہے و اضل فرعون قومہ وما ھدی 79 (اور فرعون نے اپنی قوم کو گماہ کیا اور اس نے ان کو ٹھیک راہ نہ دکھائی) یہی بات دور سے الفاظ میں یوں ارشاد ہوئی ہے۔ اذھب الی فرعون انہ طغنی (24) (فرعون کے پاس جائو، وہ بہت سرکش ہوگیا ہے)