Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 45

  1. نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ع﴿45﴾

    1. نَحْنُہم
    2. اَعْلَمُخوب جانتے ہیں
    3. بِمَا يَقُوْلُوْنَوہ جو کہتے ہیں
    4. وَمَآاور نہیں
    5. اَنْتَآپ
    6. عَلَيْهِمْان پر
    7. بِجَبَّارٍ ۣجبر کرنے والے
    8. فَذَكِّرْپس نصیحت کریں
    9. بِالْقُرْاٰنِقرآن سے
    10. مَنْجو
    11. يَّخَافُوہ ڈرتا ہے
    12. وَعِيْدِمیری وعید
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اور تم ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں ہو۔ پس اس قرآن کے ذریعے سے ان لوگوں کو یاد دہانی کر دو جو میرے وعید سے ڈرتے ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نحن اعلم بما یقولون ومآ انت علیھم بجار فذکریا لقرانن یخاف وعید 45 اوپر آیت 39 میں فرمایا تھا واصبر علی مایقولون پس جو کچھ یہ کہتے ہیں اس کو ہم خوب جانت یہیں مطلب یہ ہے کہ جب ہم خوب جانت یہیں تو تم کیوں غم کرو۔ معاملہ ہمارے اوپر چھوڑ۔ ہم اس کا مداوا کریں گے۔ تم صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو۔ وما انت علیھم بجبار اور یہ بات بھی اید رکھو کہ تم ان کو مومن بنا دینے کے کام پر مامور کر کے نہیں بھیجے گئے ہو کہ یہ ایمان نہ لائے تو اس کی پرسش تم سے ہو۔ تمہارا کام صرف لوگوں کو یاد دہانی کرنا ہے، وہ تم کرتے رہو۔ اگر یہ ایمان نہ لائے تو اس کا انجام یہ خود بھگتیں گے۔ جس مضمون کے سورة کا آغاز ہوا اسی پر خاتمہ فذکر بالقران من یخاف وعید۔ یہ اسی بات پر سورة ختم فرمائی ہے جس سے اس کا آغاز فرمایا تھا۔ قرآن ہی کے ذکر سے یہ شروع ہوئی تھی اسی کی یاد دہانی آخر میں فرما دی کہ تمہاری ذمہ داری صرف تذکیر ہے اور تذکیر کے لئے یہ قرآن کافی ہے تو اس کے ذریعہ سے ان لوگوں کو یاد دہانی کرد و جو میری وعید سے ڈرنا چاہتے ہیں۔ جو نہیں ڈرنا چاہتے اور تمہاری تصدیق کے لئے تم سے کسی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں انکو ان کی تقدیر کے حوالے کر دو۔ وہ اس کا انجام دیکھ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سورة کی تفسیر ان سطور پر متام ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین رحمان آباد 18 جنوری 1977 ء، 27 محرم الحرام 1397 ھ