Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 51. Adh-Dhaariyat · Ayah 10

  1. قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ﴿10﴾

    1. قُتِلَمارے گئے
    2. الْخَرّٰصُوْنَاٹکل دوڑانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اٹکل کے تیر تکے چلاین والے ہلاک ہوں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قتل الخرصون، الذین ھم فی غمرۃ ساھون (11-10) گمان کا سہارا لینے والوں کی تباہی یہ جملہ بھی امت و سرزنش کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اٹکل کے تیر تکے چلانے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے اپنی عقل سے کام لینا چھوڑ دیا ہے اس وجہ سے آفاق وانفس اور ارض و سماء کی وہ تمام دلیلیں جن کی طرف قرآن ان کو توجہ دلا رہا ہے، ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔ بصیرت سے محروم ہونے کے باعث اب ان کا تمام اعتماد و قیاس و گمان پر رہ گیا ہے۔ اسی قیاس و گمان کے بل پر وہ اس واضح سے واضح حق کو بھی جھٹلانے پر کمر بستہ ہیں جو ان کی خواہشوں کے خلاف ہے حالانکہ گمان کسی درجے میں بھی انکے لئے حق کا بدل نہیں بن سکے گا بلکہ ایک دن ان پر واضح ہوجائے گا کہ حق کے انکار کے لئے انہوں نے وہم و گمان کا جو سہارا لیا یہی ان کی تباہی کا اصل سبب بنا۔ جو امور جتنے ہی اہم ہیں ان کے لئے اتنا ہی اہتمام ہے خرص کے معنی اندازہ اور تخمینہ کرنے کے ہیں خرص النخل و الکرم کے معنی ہیں کھجور کے درخت یا انگور کی بیل کے پھلوں کا اندازہ کیا۔ خرص فی الحدیث، کے معنی ہوں گے کہ ایک امر پر غور کئے بغیر، اس کے بارے میں ایک اٹل پچو بات اڑا دی۔ انسان کی زندگی سے متعلق جو امور جتنے ہی اہم اور دور رس نتائج کے حامل ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے اتنا ہی زیادہ اہتمام فرمایا ہے۔ اٹکل اور اندازوں پر وہی امور اس نے چھوڑے ہیں جن کی انجام کار کے پہلو سے کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ جن امور کی خاص اہمیت ہے جو دور رس نتائج کے حامل ہیں اور جن پر انسان کی صلاح و فلاح کا انحصار ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے قیاس و گمان پر نہیں چھوڑا ہے بلکہ ان میں ہر پہلو سے اس نے حجت تمام کردی ہے تاکہ انسان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ ان امور میں اٹکل کے گھوڑے دوڑانا بالکل ایسا ہی ہے کہ ایک شخص اندھیری رات میں اللہ کی بخشی ہوئی روشنی کو گل اور اپنی آنکھیں بند کر کے محض اٹل سے راستہ معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ انسان کے لئے اس کی عاقبت کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے کسی پہلو کو بھی مبہم نہیں چھوڑا ہے بلکہ ہر جہت سے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرما دی ہے تاکہ گمراہی کا اندیشہ نہ رہے۔ آسمان و زمین میں اس نے قدم قدم پر نشانات راہ گاڑ دیئے ہیں جو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ آنکھیں دے دی ہیں جو ان نشانات کو دیکھ سکتی ہیں اگر انسان آنکھیں کھلی رکھے۔ عق بخشی ہے جو ان اشاروں کو سمجھتی ہے یا سمجھ سکتی ہے بشرطیکہ انسان اس سے صحیح طور پر فائدہ اٹھائے۔ علاوہ ازیں انسان کی فطرت میں وہ تمام داعیات و محرکات ودیعت فرما دیئے ہیں جو صحیح سمت میں قدم بڑھانے، خطرات کا مقابلہ کرنے اور انسان کو برابر بیدار رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ پھر مزید اور سب سے اعلیٰ و اشرف انتظام یہ فرمایا کہ اپنے نبیوں، رسولوں اور اپنی اتاری ہوئی کاتبوں کے ذریعہ سے اچھی طرح واضح فرما دیا کہ زندگی کی صحیح شاہراہ کیا ہے اور اس راہ کے لئے کیا زاد و راحلہ مطلوب ہے۔ اتنے گوناگوں اہتمام کے بعد بھی اگر انسان ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے محض اپنی اٹکل سے اپنے لئے کوئی اور راہ ڈھونڈنے کے در پے ہو تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اسے روشنی سے نفرت ہے، وہ تاریکی ہی میں بھٹکنا چاہتا ہے۔ اٹل کی پیروی کا سبب الذین ھم فی غمرۃ ساھون، یہ ان اٹکل کے تیر تکے چلانے والوں کی صفت بیان ہوئی ہے جس سے اس بات کی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے خدا کی روشنی چھوڑ کر اپنا رہنما اٹکل کو کیوں بنایا ہیچ فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ خواہشات نفس کے اندھیرے میں گھرے ہوئے ہیں اور ان پر ایسی غفلت طاری ہے کہ اس کا تسلسل کبھی ٹوٹتا ہی نہیں کہ اس سے نکلنے کی کوشش کریں۔ غمرۃ سے مراد خواہشات نفس اور مطامع دنیا کی تاریکی ہے۔ ساھون خبر کے بعد دوسری خبر ہے جس سے ان کی غفلت کا تسلسل ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چیز ان پر اس طرح مسلط ہے کہ وہ اس سے باہر نکلنے کا کبھی نام ہی نہیں لیتے۔ اگر کبھی کوئی ان کو جگانے اور حقیقت سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ چیز ان کے دلوں پر شاق گزرتی ہے اور وہ اپنے کو مطمئن رکھنے کے لئے جو غلط سے غلط سہارا بھی مل جاتا ہے اس پر تکیہ کرلیتے ہیں۔