Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 51. Adh-Dhaariyat · Ayah 19

  1. وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ﴿19﴾

    1. وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْاور انکے مالوں میں
    2. حَقٌّ لِّلسَّآئِلِحق سوالی کے لئے
    3. وَالْمَحْرُوْمِاور تنگدست (غیرسوالی)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق تھا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وفی اموالھم حق للسآئل و المحروم 19 محسنین خدا کے حقوق کی طرح بندوں کے حقوق بھی پہچانتے ہیں یعنی یہ محسنسنی جس طرح خدا کا حق پہچاننے والے تھے اسی طرح اس کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے والے تھے۔ وہ اپنے مالوں میں صرف اپنے نفس ہی کا حق نہیں۔ بلکہ سائلوں اور محروموں کا حق بھی سمجھتے تھے اور اس کو اسی طرح ادا کرتے تھے جس طرح اہل حق کے حقوق ادا کئے جاتے ہیں یعنی وہ اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں تھے کہ ان کے پاس جو مال ہے وہ تنہا انہی کا ہے بلکہ وہ اس حقیقت کا ادراک رکھتے تھے کہ خدا نے اگر ان کی ناگزیر ضروریات سے ان کو زیادہ دیا ہے تو یہ دوسروں کا حق ہے جو ان کی امانت میں دیا گیا ہے۔ اس امانت کا یہ حق ہے کہ وہ اس کے مستحقین کو ادا کی جائے۔ اگر یہ امانت ادا نہ کی گئی تو یہ خیانت ہوگی اور ہر خیانت کی خدا کے ہاں پرسش ہونی ہے۔ محروم سے کون مراد ہیں ؟ خاص طور پر شامل ہیں جو پہلے صاحب مال رہے ہوں بعد میں کسی افتاد نے ان کو محروم بنا دیا ہو۔ اس طرح کے لوگوں کے لئے قرآن میں لفظ غارمین استعمال ہوا ہے اور ان کو صدقات کے مستحقین میں شامل کیا گیا یہع۔ محرومین میں بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو احتاج کے باوجود سوال کرنے کا ننگ گوارا نہیں کرتے۔ خاص طور پر جو لوگ کبھی صاحب مال رہ چکے ہوں ان کو اپنی خود داری بہت عزیز ہوتی ہے یہاں یہ لفظ چونکہ سائل کے مقابل میں استعمال ہوا ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہ محتاج ہیں جو سوال نہیں کرتے۔ اس طرح کے خود داروں کی خود داری کی لاج رکھنا بہت بڑی نیکی ہے۔ قرآن میں دوسری جگہ یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اس طرح کے محتاجوں کی مدد کے لئے مال رکھنے والوں کو خود ان کے پاس پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ان سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ مال داروں کے دروازوں پر اسئل بن کر حاضر ہوں گے۔ سورة بقرہ میں اس طرح کے خود داروں کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے۔ للفقرآء الذین احصروافی سبیل اللہ لایستیعون ضرباط فی الارض یحسبھم الجاھل اغنیآء من التعفف تعرفھم بسیاھم لا یسئلون الناس الحافاً ط (البقرہ :273) یہ صدقات ان محتاجوں کے لئے ہیں جو اللہ کی راہ میں مصروف ہیں، تلاش معاش کی جدوجہد میں زمین میں نقل و حرکت نہیں کرسکتے۔ ان کے حال سے ناواقف ان کی خود داری کے سبب سے ان کو غنی سمجھتے ہیں تم ان کو چہیر بشرے سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔