Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 51. Adh-Dhaariyat · Ayah 38

  1. وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ﴿38﴾

    1. وَفِيْ مُوْسٰٓىاور موسیٰ میں
    2. اِذْ اَرْسَلْنٰهُجب بھیجا ہم نے اس کو
    3. اِلٰى فِرْعَوْنَفرعون کی طرف
    4. بِسُلْطٰنٍایک دلیل کے ساتھ
    5. مُّبِيْنٍکھلی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور موسیٰ کی سرگزشت میں بھی نشانی ہے جب کہ ہم نے اس کو فرعون کے پاس بھیجا ایک واضح سند کے ساتھ
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وفی موسیٰ اذارسلنہ الی فرعون بسلطن مبین (38) حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی سرگزشت کی طرف اشارہ اس کا عطف حضرت ابراہیم ؑ کی سرگزشتہ پر ہے۔ یعنی جس طرح حضرت ابراہیم ؑ کی سرگزشت میں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کے عدل وانتقام کی نشانیاں ہیں اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت میں بھی اس کی نشانیاں موجود ہیں۔ لفظ سلطان، کی تحقیق اس کے محل میں گزرچکی ہے۔ یہ لفظ واضح سند کے معنی میں بھی قرآن میں آیا ہے اور رعب ودبدبہ کے معنی میں بھی۔ یہاں یہ ان دونوں معنوں پر حاوی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو جو نشانیاں عطا فرمائیں ان کے خدائی سند ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں تھی۔ فرعون نے محض اشکبار کے سبب سے ان کو سحر قرار دیا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ معجزات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو دیکھ کر فرعون اور اس کے اعیان پر حضرت موسیٰ ؑ کا ایسا رعب جم گیا کہ انتہائی جوش انتقام کے باوجود وہ آخر وقت تک ان پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرسکے۔